7 لڑکیوں کے شریف گھرانوں میں کروائے ۔۔ رشتہ صرف خواتین نہیں، مرد حضرات بھی کرواتے ہیں، جانیئے کچھ دلچسپ کہانیاں

image

شادیاں کروانا بھی ایک بڑا ثواب کا کام ہے کیونکہ ماں باپ کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے بعد ان کی شادی بھی کروائیں اور ہر والدین کے لئے یہ فریضہ بذاتِ خود انجام دینا ممکن نہیں ہوتا اور پھر ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں اگر کوئی ماں باپ اپنی زبان سے کہہ کر اپنی بیٹی کے رشتے کی بات کردیں ، حالانکہ اس بات میں کیا مزاحقہ ہے یہ سمجھ نہیں آتا ، بہرحال جہاں اپنے قریبی رشتوں میں دوریاں پیدا ہوئیں، وہیں ہمارے ہاں رشتے کروانے والی آنٹیوں کی ڈیمانڈ میں اضآفہ ہوا، اب خواتین رشتے کروانے والیوں کے متعلق تو سب نے سنا ہوگا، اور یہ بہت عام بھی ہیں۔

لیکن آج ہم آپ کو کچھ ایسے مرد حضرات کی کہانی بتانے جا رہے ہیں جو بچوں کے رشتے باحفاظت اور بآسانی کرواتے ہیں وہ بھی بناء کسی منافع کے اور ان کے کروائے گئے رشتے مضبوط و مستحکم بھی ہیں۔

کراچی کے علاقے گلشن میں رہنے والے سید کاشف علی بتاتے ہیں کہ: '' میں نجی جامعہ میں دفتری کام کرتا ہوں، میری جان پہچان جامعہ میں آنے والے سرکاری و نجی افراد سے ہے، سب کے ساتھ بھائی چارگی والے تعلقات ہیں، ایک دن ایک صاحب نے کہا کاشف کوئی اچھی لڑکی ہو تو میرے بیٹے کے لئے بتانا، اس دن میں نے ان کی بات پر غور نہیں کیا، جب میں گھر آیا تو بیگم برابر والے گھر میں رہنے والی لڑکی کا بتانے لگی کہ بیچاری آمنہ کا رشتہ پھر سے ٹوٹ گیا، جس پر مجھے بہت دکھ ہوا، میں نے ان حضرت کی بات بیگم کو بتائی، ہم نے پڑوس والے صابر بھائی سے بات کی اور اگلے روز میں نے جامعہ میں اس شخص سے بات کرکے رشتے کی بات پکی کروا دی، آج اس کی شادی کو 7 سال گزر گئے، یہ پہلا موقع تھا جبکہ میں نے کسی کی بچی کا رشتہ کروایا، اور پھر اس کے بعد ایک مرتبہ ایسا ہوا میں محلے کی دکان پر گیا تو کچھ لڑکے ہنس کر مزاق اڑا رہے تھے کہ ارے دیکھو بیچارے ارسلان کا نکاح دوبارہ ٹوٹ گیا، میں نے ان کو ڈانٹ کر کہا یہ کیسی باتیں کر رہے ہو، اس طرح کسی کا مزاق اڑانا ٹھیک نہیں، پھر جب معلوم ہوا تو پتہ چلا کہ ارسلان نے چوری کی تھی جس کی وجہ سے اس کا رشتہ ٹوٹ گیا، جس لڑکی سے اس کا نکاح ہوا تھا، اب اس کے گھر والے پریشان تھے کہ نکاح ٹوٹ گیا، میں نے سوچا کہ اب اس بچی کے لئے کیوں نہ میں کوئی رشتہ دیکھوں، اور پھر اس کا رشتہ ایک سرکاری افسر کے بیٹے کے ساتھ کروا کر دم لیا، یوں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے میں اپنے محلے اور اردگرد کی 7 بچیوں کا رشتہ کرواچکا ہوں، یہ سب گھروں کی ہوگئیں، سب مجھے دعائیں دیتے رہتے ہیں۔ کچھ محلے کے لڑکوں نے تو میرا نام کاشف رشتے والا رکھا ہوا ہے، جب نماز کے بعد مسجد سے نکلتا ہوں، سب آواز لگا کر کہتے ہیں کاشف رشتے والے بھائی ذرا ہمارے لئے بھی ڈھونڈ دو کوئی لڑکی۔ ''

ایسی ہی کہانی حیدرآباد میں رہنے والے محمود کی ہے جو محکمے آبپاشی میں افسر کے طور پر کام کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ: '' بڑے زمیندار اور عام کسان سے میرا روزانہ کا ملنا جلنا ہے، میں ایک دن اپنے قریبی رشتے داروں کے ہاں گیا تو وہاں ان کے بیٹے محمد اعظم کی شادی کرنے کے لئے لڑکی کی تلاش چل رہی تھی، میں نے بھی سوچا کہ پڑھا لکھا بچہ ہے کوئی اچھی جوڑ کی لڑکی تو ہونی چاہیئے، اگلے روز میں دفتر گیا تو کام کے سلسلے میں ایک پولیس والا آیا ہوا تھا جس کے سسر ریٹائرڈ فوجی تھے، وہ بات چیت کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا بھائی کوئی پڑھی لکھی بچی ہو تو بتانا، اب اس کو میری بات تو سمجھ آگئی، اگلے روز آیا اور کہتا ہے لڑکی پڑھی لکھی نہیں مگر گھر کے کام جانتی ہے، بہرحال میں نے ان کی بچی کی عزت کرتے ہوئے اپنے بھتیجے کے ساتھ شادی کروادی اور دونوں اب خوش ہیں۔ اسی طرح محلے کے ایک دکاندار کی بچی کا رشتہ ایک اچھے گھرانے میں کروایا اور یہ دیکھ کر ساری معلومات پہلے خود کرلیتا ہوں تاکہ کسی کے بچوں کے ساتھ کوئی رکاوٹ نہ آئے، بچے خوشی خوشی رہیں۔ ''


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US