جہاز سے جُڑی معلومات لئے اکثر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور ہر بار ہی آپ کو چونکا دینے والی معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن آج ہماری ویب آپ کے لئے لائی ہے ایک ایسی معلومات جو جان کر آپ بھی حیرت میں پڑ جائیں گے۔
دوستوں یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جہاز میں اکثر ملکوں کا سفر 22 گھنٹے تو کبھی 24 گھنٹے سے بھی زیادہ طویل ہوتا ہے جس طرح مسافر آرام کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں اس ہی طرح جہاز کے عملے کو بھی آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اتنے لمبے سفر کے دوران اگر کبھی پائلٹ سو جائے تو کیا ہوگا؟
اب پائلٹ بھی انسان ہی ہے اور اتنے طویل سفر کے دوران اسے بھی نیند آ سکتی ہے اگر وہ غلطی سے سو جائے تو آپ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ جہاز گِر جائے گا کریش ہوگا اور سب لوگ مرجائیں گے۔
لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے، آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ جہاز اُڑانے کے دوران پائلٹ سو جائے تو کیا ہوگا۔
پرواز کے دوران پائلٹ سو جائے تو کیا ہوگا؟
یوں تو ایسا واقعہ پیش آنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں، دراصل جہاز میں ایک ایسا سسٹم لگا ہوتا ہے جو پائلٹ کی چند منٹ سے زیادہ کسی حرکت نہ کرنے اور بٹن وغیرہ نہ دبانے پر خود بخود آن ہو جاتا ہے اور جہاں پائلٹ بیٹھا ہوتا ہے وہاں تیز سائرن بجنے لگتا ہے اور اس سائرن کی آواز تیز تر ہوتی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ جہاز میں ہمیشہ دو پائلٹ ہوتے ہیں کہ اگر ایک سو بھی جائے تو دوسرا پرواز کو جاری رکھ سکتا ہے اور اگر دونوں بدقسمتی سے سو جائیں تو ایک اور سسٹم الرٹ ہو جاتا ہے جو دونوں پائلٹ کی حرکات کو غور کر رہا ہوتا ہے اور کوئی حرکت محسوس نہ ہونے پر بجنے لگتا ہے جس سے پائلٹ جاگ جاتا ہے اور جہاز کا دیگر عملہ بھی اس آواز کو سن کر ہوشیار ہو جاتا ہے۔
جہاز کا سسٹم اتنا جدید ہوتا ہے کہ اگر 5 منٹ سے زیادہ پائلٹ حرکت نہ کرے تو زمین پر موجود کنٹرول روم میں اے ٹی سی کو سگنلز ملنے لگتے ہیں کہ اور ہنگامی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔