دسمبر 2019 کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پہلی بار ایک نامعلوم نمونیا کے کیسز کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کیا تھا۔ جبکہ پہلی بار 30 جنوری 2020 کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کورونا وائرس کو ایک عالمی وبا قرار دیا تھا۔
یعنی اس عالمی وبا کو دنیا میں پہلے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، اس عرصے میں چار ملین سے زائد افراد اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ جن میں 27 ہزار سے زائد پاکستانی شامل ہیں۔
پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2 ہزار سے زائد کورونا کے مثبت کیسز سامنے آئے ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے ویکسین نہ لگوانے والوں کیلئے سخت فیصلے لیے جارہے ہیں جو کہ یکم اکتوبر سے نافذ کیے جائیں گے۔
ویکسین نہ لگوانے والے افراد کیلئے این سی او سی کی گائیڈ لائنز
یکم اکتوبر سے ویکسینیشن نہ لگوانے افراد اندروں ملک اور بیرون ممالک ہوائی سفر نہیں کر سکیں گے۔ جبکہ شادی، شاپنگ سینٹر سمیت دیگر مقامات پر جانے کی پابندی ہوگی۔
اس کے علاوہ وہ افراد جہنوں نے مکمل ویکسین نہیں لگوائی ہے وہ ڈائننگ ان اور آؤٹ کی سہولت سے محروم رہے گے۔ جبکہ کسی ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس میں رہائش اختیار کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
پاکستان میں آنے والے افراد کیلئے کورونا گائیڈ لائنز
پاکستان میں آنے والوں کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے کورونا گائیڈ لائنز جاری کی ہیں جن کے مطابق پاکستان میں آنے والوں کو سب سے پہلے پاس ٹریک موبائل ایپلیکیشن یا پھر ویب کے ذریعے اپنے صحت کی معلومات فراہم کرنا ہوگی۔
جبکہ پاکستان میں آنے والے وہ افراد جو کہ کیٹیگری B اور C ممالک میں آتے ہیں ان ممالک کے شہریوں کو 72 گھنٹے قبل ان افراد کا پی سی آر منفی آنا لازمی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی جو کہ پاکستان سے باہر کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کیلئے مختلف ممالک کی اپنی اپنی گائیڈ لائنز موجود ہیں جن میں بدلتے حالات کے ساتھ ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔