اگر گاڑی نوپارکنگ سے اٹھائی جاسکتی ہے تو کچرا اور پلاسٹک کیوں نہیں؟

image

میری گاڑی کہاں گئی؟ سہیل نے بینک سے واپس آکر حیرت سے اپنی گاڑی کی جگہ خالی دیکھ کر گارڈ سے سوال کیا

آپ نے گاڑی غلط جگہ پارک کی تھی اس لئے ٹریفک پولیس نے اسے اٹھا لیا ہے اب جرمانہ ادا کریں اور گاڑی نکلوا لیں۔ گارڈ نے دانت نکالتے ہوئے بتایا

سہیل یہ سن کر غصے سے لال پیلا ہوگیا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کردے۔ وہ ایک ایسی جگہ کھڑا تھا جہاں ہر طرف ڈھیروں کوڑا کڑکٹ موجود تھا اسی وجہ سے اس نے بھی گاڑی کو نسبتاً صاف جگہ پارک کیا تھا تاکہ اترنے اور نکلنے میں آسانی ہو۔ “اتنی بڑی گاڑی اٹھا لی لیکن سڑک پر کچرا دیکھ کر سب اندھے بن جاتے ہیں“ سہیل غصے میں بڑبڑایا لیکن مرتا کیا نہ کرتا وہ گاڑی کا جرمانہ بھرنے چل دیا

ہر سڑک پر کچرا ہے۔ اگر اسکول ہے تو اسکول کے باہر غلاظت کا ڈھیر لگا ہے۔ ہر خالی پلاٹ میں ٹنوں کچرا روزانہ پھینکا جاتا ہے۔ یہ کوڑے کڑکٹ کے ڈھیر پاکستان کے تقریباً ہر شہر خصوصاً کراچی میں تو ہر سڑک اور چوراہے پر دیکھنے کو ملتے رہیں گے۔

حال یہ ہے کہ شہریوں کے چلنے کے لئے جگہ نہیں ہے لیکن اس کچرے کی جانب دھیان دینے والا کوئی نہیں۔ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری وفاق پر تھوپتی نظر آتی ہے اور وفاق گیند واپس صوبائی حکومت کی کورٹ میں پھینک دیتی ہے یوں معاملہ جیسے کا تیسا چلتا رہتا ہے اور عوام اسی غلیظ کچرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ حکومت وقت سے گزارش ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرکے یو ٹرن لینے کے بجائے ان مسائل پر بھی دھیان دے دے جن کا عوام سے براہِ راست تعلق ہے ورنہ کچرے کے پہاڑ تعمیر کرکے درختوں کے سونامی لانے سے بھی ماحولیات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اور ساتھ ہی شہریوں سے بھی التماس ہے کہ ہر جگہ کچرا پھیلانے کے بجائے درست مقام پر پھینکیں ورنہ یہ کچرا بڑھتے بڑھتے آپ کے گھر تک بھی آجائے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US