پنڈورا بکس یعنی پنڈورا پیپرز کیا سامنے آئے ملک کی سیاسی صورتحال میں نیا ہنگامہ پیدا ہوگیا ہے۔ کئی نامی گرامی سیاست دانوں جیسے فیصل واؤڈا، شوکت حسین، سابق صدر پرویز مشرف کے سابق ملٹری سیکرٹری لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ شفاعت اللہ شاہ، آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل برائے انسداد دہشت گردی میجر جنرل ریٹائرڈ نصرت نسیم (البتہ انھوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی آف شور کمپنی اپنے نام سے رجسٹرڈ کروالی تھی)، ایکزیکٹ کے مالک شعیب شیخ سمیت 700 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آگئی ہیں۔ اب سیاسی بیان بازیاں اور اپنے حصے کی صفائیاں پیش کرنا تو ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جن کے نام اس رپورٹ میں شامل ہوئے۔ البتہ ہم اپنے قارئین کو اس آرٹیکل میں یہ بتائیں گے کہ آف شور کمپنیاں کیا ہوتی ہیں؟ اور کیا یہ واقعی غیر قانونی ہوتی ہیں؟ تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
آف شور کمپنیاں کیا ہوتی ہیں؟
آآف شور کمپنی سے مراد ایسی کمپنی ہے جو کسی دوسرے ملک میں قائم کی جائے اور وہاں کام کرتی ہو تاکہ مقامی ٹیکس سے بچا جاسکے۔ کاروبار کی دنیا میں لفظ آف شور سے مراد “دوسرے ملک“ کی ہے۔ ایسی کمپنی بھی آف شور میں شمار کی جائے گی جس کا مالک یا سرمایہ کار ایک دوسرے ملک کا شہری ہو اور کمپنی کسی دوسرے ملک میں رجسٹر کی جائے۔ یہ کمپنیز زیادہ تر ایسے ممالک میں بنائی جاتی ہیں جہاں کمپنیاں قائم کرنا آسان ہے اور مختلف پیچیدگیوں کی وجہ سے کمپنی کے مالک کی شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پاکستانی افراد ایسے ممالک میں آف شور کمپنیاں بنانے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں کم سے کم ٹیکس ہو جیسے آئیر لینڈ، سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک شامل ہیں۔
کیا آف شور کمپنیاں غیر قانونی ہوتی ہیں؟
اس سوال کا جواب ہے کہ ہر آف شور کمپنی غیر قانونی نہیں ہوتی۔ لیکن اس کمپنی کا ظاہر ہونا اور کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہ ہونا ضروری ہے۔ آف شور کمپنی بنانا غیر قانونی عمل نہیں البتہ زیادہ تر یہ کمپنیاں پیسے اور جائیداد کو پوشیدہ رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔