’ایک بچے کے جانے سے ساری زندگی بدل گئی‘: پاکستان میں 2025 ایک دہائی کا سب سے خونی سال

پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 2025 میں ہلاکتیں ایک دہائی میں بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ ایسے میں اسلم گھمن جیسے ہزاروں خاندانوں کے لیے یہ نئی لہر ایک مستقل نقصان لے کر آئی ہے۔
اسلم گھمن موبائل فون پر اپنے بیٹے زبیر کی تصویر دیکھ رہے ہیں، جو چند ہفتے قبل ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوئے تھے
BBC
زبیر گھمن نومبر 2025 میں اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش حملے میں مارے گئے تھے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے باہر قانونی سرگرمیاں روزمرہ کی طرح جاری ہیں۔ وکلا اور ان کے کلائینٹس سیکیورٹی رکاوٹوں کے پاس سے تیزی سے گزرتے ہیں، کلرک فائلیں اٹھائے پھرتے ہیں اور کیفیٹریا کے ویٹرز گاہکوں کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ لیکن ایڈووکیٹ اسلم گھمن کے لیے زندگی یہاں رک گئی ہے۔

وہ اپنے موبائل فون پر تصویریں دیکھتے ہیں۔ یہ ان کے بیٹے زبیر گھمن کی تصاویر ہیں۔ زبیر 12 سال سے اسلام آباد میں وکالت کر رہے تھے اور حال ہی میں انھیں سپریم کورٹ میں پریکٹس کا اجازت نامہ بھی مل گیا تھا۔ لیکن چند ہفتے پہلے، 11 نومبر کو، وہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں ایک خودکش حملے میں مارے گئے۔

’سب کچھ بدل گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے ایک بچے کے جانے سے سب کچھ بدل گیا ہے۔‘ اسلم گھمن یہ کہتے ہوئے رو پڑے۔

اس سال پاکستان بھر میں ہزاروں خاندانوں کی طرح گھمن خاندان بھی ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا جس کا وہ حصہ نہیں تھا۔ شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے نے 2025 کو گزشتہ ایک دہائی کا سب سے خونی سال بنا دیا ہے۔

وہ دن جس کا آغاز عام دنوں جیسا تھا

ایڈووکیٹ اسلم گھمن اسلام آباد میں نومبر میں ہونے والے کودکش دھماکے کے باہر بتا رہے ہیں
BBC
اسلم گھمن کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا ان کے بڑھاپے کی امید تھا

ایڈووکیٹ اسلم گھمن بتاتے ہیں کہ وہ اس دن سپریم کورٹ میں ہی تھے جب ٹی وی پر دھماکے کی خبر سن کر انھوں نے اپنے بیٹے کو فون کیا۔

اس روز زبیر گھمن کا اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون کی اس عدالت میں کوئی کیس نہیں تھا جس پر حملہ ہوا۔ ’وہ سیکٹر جی ٹین کی فیملی کورٹ سے فارغ ہوا اور اپنے ڈرائیور کو ایک اور عدالت جانے کا کہا۔‘

اسی لمحے ان کی گاڑی کے پاس ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ آیا اور زبیر کو بتایا کہ انھیں کوئی غلط عدالت میں چھوڑ گیا ہے اور یہ کہ انہیں جی الیون کے جوڈیشل کمپلیکس جانا ہے۔

اسلم گھمن کے مطابق ان کے بیٹے نے بوڑھے شخص اور ان کی فیملی کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور خود انھیں جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت تک چھوڑنے چلے گئے۔

’میرا بیٹا انھیں گیٹ کے پاس چھوڑ کر واپسی کے لیے مڑا ہی تھا کہ خودکش دھماکہ ہو گیا۔‘

اس دھماکے میں زبیر گھمن سمیت 12 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان میں ایک دہائی کا سب سے خونی سال

پاکستان میں اس سال ہلاکتوں کی تعداد اڑتیس سو کے قریب رہی۔
BBC
2025 میں پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ہلاکتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ رہیں

زبیر گُھمن اُن ایک ہزار سے زائد عام شہریوں میں شامل ہیں جو 2025 میں پاکستان بھر میں شدت پسند حملوں میں مارے گئے۔

بی بی سی نے سرکاری اور ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل سمیت دیگر آزاد ریسرچز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق 5 دسمبر تکدہشتگرد حملوں اور انسداد دہشتگردی آپریشنز کے دوران ملک بھر میں کم از کم 3800 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ ہے۔

اعداد و شمار یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس سال زیادہ ہلاکتیں عام شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں یا شدت پسندوں کی ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق 2024 میں زیادہ تر اموات شدت پسند حملوں کے نتیجے میں ہوئی تھیں۔ اُس سال 754 سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے، جبکہ تقریبا 900 شدت پسند، مختلف حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔

لیکن 2025 میں صورتِ حال مختلف رہی۔ اس سال مجموعی ہلاکتوں میں سے نصف سے زیادہ شدت پسند تھے جو سکیورٹی آپریشنز میں مارے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2000 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں 1,200 سے کم رہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2025 کا یہ سال 2015 کے بعد شدت پسندوں کے لیے، 2011 کے بعد سکیورٹی فورسز کے لیے، اور ایک دہائی میں عام شہریوں کے لیے سب سے مہلک سال ثابت ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں شدت پسند حملوں کی تعداد بھی 2014 کے بعد سب سے زیادہ رہی۔ خودکش حملوں اور چھوٹے ڈرونز کے استعمال میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال ملک بھر میں 67 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز یعنی آئی بی او کیے گئے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں آئی بی او، مسلح گروہوں اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف ایک وسیع تر اور پہلے کی نسبت سخت مہم کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اس بات کی نشاندہی بھی ہے کہ شدت پسندی ایک بار پھر گہری جڑیں پکڑ چکی ہے۔

گیارہ نومبرکو اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش حملے سے تباہ ہونے والی گاڑی
Getty Images
شدت پسند تنظیموں نے اس سال ان شہروں کو بھی نشانہ بنایا جو نسبتا محفوظ سمجھے جاتے تھے

اس سال محفوظ سمجھے جانے والے شہر بھی نشانہ بنے

اس سال ہونے والے پرتشدد واقعات اور دہشتگردی کے حملوں کی ایک اور نمایاں بات یہ ہے کہ یہ حملے کہاں ہو رہے تھے۔

خودکش حملوں سے لے کر ٹارگٹ کلنگ تک، شدت پسندوں نے اپنی پہنچ اور اہداف دونوں بڑھائے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں شدت پسندوں کی کاروائیاں زیادہ تر سرحدی اور دور دراز علاقوں تک محدود تھیں، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں۔ لیکن 2025 میں شدت پسندوں نے شہروں اور ہائی سکیورٹی مقامات پر بھی حملے کیے۔ اب وہ ایسے مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں جو پہلے نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے تھے۔

نومبر میں اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر ہونے والا خودکش حملہ اس کی ایک مثال ہے۔ اسلام آباد کو ملک کے محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اب خطرے کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔

سکیورٹی تجزیہ کار افتخار فردوس کے مطابق شدت پسند گروہ اب نئے قسم کے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’2021 کے بعد ہم نے امریکی اور نیٹو ہتھیاروں کو ان تنظیموں کے ہاتھ لگتے دیکھا۔ لیکن اب ایسے ہتھیار اور سسٹمز سامنے آ رہے ہیں جو ماضی میں شاذ و نادر ہی شدت پسندوں کے پاس ہوتے تھے۔‘

ان کے مطابق ایک بڑا عنصر حملوں میں کواڈکاپٹر ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ بلوچستان میں شدت پسند اب ایسی آئی ای ڈیز بھی استعمال کر رہے ہیں جو سکیورٹی فورسز کے جیمرز کی فریکوئنسی کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

افتخار فردوس کہتے ہیں کہ ’اس کی وجہ سے ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ آلات روایتی حفاظتی اقدامات کو ناکام بنا دیتے ہیں، جس کے باعث زیادہ افسران اور فوجی جوان مارے جا رہے ہیں۔‘

پاکستانی فوج کے اہلکار وانا کیڈٹ کالج کے داخلی دروازے پر کھڑے ہیں جو دہشتگردوں کے حملے میں تباہ ہو چکا ہے۔
Getty Images
نومبر میں جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ہوا جسے سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا

ان حملوں کے پیچھے کون ہے؟

پاکستان کو کسی ایک شدت پسند گروہ کا سامنا نہیں، بلکہ کئی گروہ مختلف مقاصد، طریقوں اور علاقوں میں سرگرم ہیں۔

اس سال سب سے زیادہ حملوں کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی پر عائد کی گئی ہے۔ یہ 2007 میں قائم ہونے والی ایک شدت پسند تنظیم ہے جو پاکستانی ریاست کی رٹ چیلنج کرتی ہے اور یہاں اپنی تشریح کے مطابق اسلامی قانون نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ماضی میں متعدد فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں کمزور ہونے کے باوجود اب یہ گروہ دوبارہ منظم ہو چکا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق اب ٹی ٹی پی ایک سخت مرکزی قیادت کے بجائے مختلف دھڑوں کے نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہی ہے، جس سے چھوٹے سیلز کو آزادانہ طور پر حملے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق ٹی ٹی پی کی توجہ اب بھی خیبر پختونخوا پر مرکوز ہے، جہاں یہ پولیس تھانوں، سکیورٹی اہلکاروں کے قافلوں، انٹیلی جنس اہلکاروں اور مقامی حکام کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ حملے عموماً کم لاگت کے ہوتے ہیں مگر ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اور ان کا مقصد سکیورٹی فورسز پر مسلسل دباؤ ڈالنا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان میں تشدد کی نوعیت مختلف ہے۔

وہاں علیحدگی پسند گروہ، خاص طور پر کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی، مذہبی نظریے کے بجائے سیاسی محرومی، وسائل پر کنٹرول اور ریاستی جبر کے خلاف شکایات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں۔

اس سال بھی ان کے حملوں کا ہدف اکثر فوجی تنصیبات، چین کے تعاون سے بننے والے منصوبے، ریلوے لائنیں اور توانائی کے انفراسٹکچر رہے۔ لیکن اسی سال عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مارچ میں بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا اور اس میں سوار مسافروں کو یرغمال بنایا گیا۔ ایک بڑے فوجی آپریشن کے بعد ان مسافروں کو بازیاب کرایا گیا۔ اسی طرح کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر حملے میں متعدد عام شہری اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔

پاکستان میں داعش کے علاقائی گروہ، آئی ایس ۔ کے، کی جانب سے بھی حملے دیکھے گئے ہیں۔ یہ گروہ ٹی ٹی پی کے مقابلے میں چھوٹا ہے، مگر اس نے چند بڑے اور نمایاں حملے کیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گروہ عموماً ایک دوسرے سے تعاون کے بجائے مقابلہ کرتے ہیں، لیکن ان سبھی کو ایک جیسے حالات فائدہ دیتے ہیں، یعنی سیاسی عدم استحکام، سرحدیں، معاشی مشکلات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوریاں۔

بی ایل اے کے حملے کے بعد ایک بار پھر اپنی سروسز شروع کرنے سے پہلے جعفر ایکسپریس میں پولیس اہلکار کھڑے ہیں۔
Getty Images
مارچ میں بلوچستان میں سرگرم مسلح علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا

ان کا کہنا ہے کہ اس سال سیاسی تقسیم نے بھی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو کمزور کیا، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں، جہاں فوج اور عمران خان کی جماعتپی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے۔

افتخار فردوس کہتے ہیں ’ایسی صورتحال (شدت پسندی) سے نمٹنے کے لیے عوامی حمایت بہت ضروری ہوتی ہے، اور وہ سیاست اور سیاستدانوں کے ذریعے ملتی ہے۔ لیکن اس وقت صوبے اور وفاق کے درمیان گہری خلیج ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر حملوں میں مصروف ہیں، اور اس سے شدت پسندی کے خلاف لڑائی کمزور ہو رہی ہے۔‘

دوسری جانب اس سال بھی پاکستانی حکومت بارہا ہمسایہ ملک افغانستان پر الزام لگاتی رہی کہ وہاں سے شدت پسند گروہوں کو کام کرنے کی سپیس مل رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ افغانستان اور ان تنظیموں کے بیچ ایک واضح تعلق موجود ہے۔

’یہ تو بالکل واضح ہے کہ افغانستان کا اس میں لِنک بھی ہے، ان کی انوالومنٹ بھی ہے، ان کی سرزمین بھی انوالوڈ ہے، ان کے ہاں جو لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں، یہ تو بڑا واضح ہے کہ ان کے لیے تو یہ ایک وار اکانومی (جنگی معیشت) ہے، اور وہ اسی پر پل رہے ہیں۔‘

کابل ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ افغان حکام کے مطابق پاکستان کے سیکیورٹی مسائل اندرونی ہیں اور ان کا ذمہ افغانستان پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔

اسی سال اکتوبر میں افغانستان اور پاکستان کے بیچ اسی تنازعے پر جھڑپیں بھی ہوئیں اور تب سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلق منقطع اور تمام کراسنگ پوائنٹس بند پڑے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے بیچ اس تنازع نے پہلے سے نازک صورتحال میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے اور دہشتگردی جیسے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، اور یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا جب تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

پاکستان میں شدت پسند حملوں کے بعد سرحد اور تجارت بند کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقےطورخم میں ٹرک تاحالپھنسے ہوئے ہیں۔
Getty Images
اکتوبر میں دونوں ملکوں کے بیچ جھڑپوں کے بعد سے افغانستان اور پاکستان کی سرحد بند ہے

’یہ پتا نہیں ہوتا شام کو گھر واپس پہنچیں گے یا نہیں‘

لیکن پالیسیز، الزامات اور حکمت عملی سے جڑی اس تمام بحث میں اسلم گھمن جیسیے ہزاروں خاندانوں کے لیے کہیں کوئی تسلی نہیں ہے۔

اسلم گھمن کہتے ہیں کہ عام شہری اس تنازع کی قیمت ادا کر رہے ہیں، جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔

’ہر روز معصوم اور غریب لوگ ان حملوں میں مارے جا رہے ہیں۔ یقین جانیں یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ گھر سے صبح نکلے ہیں تو واپس گھر پہنچ پائیں گے یا نہیں۔‘

وہ لمحہ بھر رکتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ہم دہشتگردی کے کنوئیں میں دھکیلے ہوئے ہیں۔ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ جب تک پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے درمیان معاملات حل نہیں ہوتے، عوام اور سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کا ایندھن بنتے رہیں گے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US