دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والے پنڈورا پیپرز کیا ہیں؟ جانیے اس کے حوالے سے چند اہم باتیں جو بہت سے لوگ نہیں جانتے

image

غیر قانونی طور پر آف شور کمپنیاں بنانے والوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی تحقیق' پنڈورا پیپرز' میں بڑے بڑے نام شامل ہوئے ہیں۔ پنڈورا پیپرز کے پنڈورا باکس کھلتے ہی دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا۔

جعلسازی،فراڈ، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے ذریعے روپیہ باہر پہنچانے، آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور جائدادیں بنانے کی بین الاقوامی تحقیقی رپورٹ ’پینڈورا پیپرز‘ کے نام سے سامنے آئی ہے۔

مذکورہ رپورٹ بین الاقوامی صحافیوں کی غیرسیاسی تنظیم ’انٹرنیشنل کنسورشیئم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘ کی جانب سے ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے جس میں 200 ممالک کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ دستاویز دیکھی گئی ہیں جن کا ڈیٹا تین ٹریلین کے قریب ہے۔

رپورٹ میں اثاثے جمع کرانے، ان کی تفصیلات چھپانے یا ٹیکس چوری کے ذریعے دولت جمع کرنے کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ اگرچہ آف شور کمپنیاں اور اثاثے بنانا غیرقانونی نہیں لیکن پینڈورا پیپرز میں حاص طور پری یہ شامل کیا گیا ہے کہ جن کے اثاثے ہوتے ہیں وہ اپنے ملک میں ظاہر نہیں کرتے۔

بڑی تفتیش میں دنیا بھر کے 330 حکومتی اہلکار اور سیاستداں شامل ہیں جبکہ فوربز کے تحت 130 ارب پتی افراد، مشہور کھلاڑی، اداکار و گلوکار، اسلحہ فروش اور منشیات اسمگلر بھی شامل ہیں۔ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں 117 ممالک کے 600 صحافیوں نے کردار ادا کیا ہے۔

خیال رہے پاکستان سے بھی بڑے بڑے نام پنڈورا پیپرز کی فہرست میں آئے ہیں جن میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، سینیٹر فیصل واوڈا، علیم خان، شرجیل میمن، مونس الٰہی اور علی ڈار سمیت 700 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US