جانے والوں کی یادیں ہمیشہ ستاتی ہیں، چاہے وہ اچھی ہوں یا بُری، لیکن ماضی کی یادوں سے انسان بہت سے سبق بھی حاصل کرتا ہے۔ اسی لئے ہم بھی آپ کو ہر پیر کے دن گذشتہ ہفتے کی وائرل تصاویر دکھاتے ہیں جن کے چرچے سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور ہر شخص کچھ نہ کچھ ان سے سبق بھی لازمی حاصل کرتا ہے۔ آئیے اس ہفتے کی وائرل تصاویروں پر بھی نظر دوڑاتے ہیں۔
تیسری شادی کے وقت نواسہ گود میں تھا:
اداکارہ عتیقہ اوڈھو کسی تعارف کی محتاج نہیں یہ اداکاری کے علاوہ سماجی کارکن بھی ہیں، اپنا میک اپ برانڈ بھی چلاتی ہے۔ عتیقہ اوڈھو پی ٹی وی کے سنہری دور کے ایک بہترین ڈرامہ انگار وادی کی اداکارہ ہیں۔ ڈرامہ سیریل انگار وادی میں انہیں خوبصورت کشمیری کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ عتیقہ اوڈھو سندھ کے مشہور روحانی پیر اوڈھو کی صاحبزادی ہیں۔
ویسے تو عتیقہ اوڈھو کسی بھی پروگرام میں اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق کم ہی بات کرتی ہیں لیکن انہوں نے ایک مشہور پروگرام میں اپنی تینوں شادیوں سے متعلق کھل کر باتیں کیں۔ پروگرام ہوسٹ نے ان سے سوال کی اکہ آپ نے پہلے پہلی شادی کی، پھر دوسری اور پھر تیسری، اتنی ہمت کہاں سے آئی؟
اس کے جواب میں اداکارہ نے کہا کہ: '' جب کوئی آپ پر ہاتھ اٹھائے، ظلم کرے، تھپڑ مارے تو کیا فائدہ ایسے رشتے کا، یہ پرواہ نہ کریں کہ کتنے اکیلے ہیں آپ، کوئی آپ کا ساتھ دے یا نہ دے آپ خود اپنا ساتھ دیں، اگر آپ سمجھتی ہیں کہ ظلم سہہ کر، مار پیٹ کھا کر چُپ رہ کر آپ اپنا گھر بسا سکتے ہو تو یہ ایک غلط فہمی ہے، جب آپ دلی طور پر خوش نہیں تو آپ کا بکھرا ہوا گھرانہ بھی کبھی خوش نہیں رہے گا۔ میرے بچے میری طاقت بنے، مجھے ہر حال میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا، سہارا دیا۔ میں ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، میرے والد کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی، مگر ایک ٹوٹے ہوئے، بکھرے ہوئے گھر کا کیا فائدہ جو خوشیاں نہ بانٹ سکے۔''
میں نے وہ وقت اس لئے گزارا اور آگے بڑھ کر سب کچھ سنبھالا تاکہ اگلے آنے والے وقت میں ایسا کسی کے ساتھ نہ ہو، اور اگر ہو تو اسے پتہ ہو کہ کیسے اس سب حالات سے گزرنا چاہیئے۔ کل کو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے ایک مثال بھی تو سامنے ہونی چاہیئے۔ میری بھی 2 بیٹیاں ہیں، ایک پروڈیوسر ہے، میرا بیٹا گانے کی کاپی اور ساؤنڈ ٹیپ وغیرہ کا کام کرتا، چھوٹی بیٹی آرٹس اسکول میں پڑھ رہی ہے، تیسری شادی کے وقت میرا نواسہ گود دمیں تھا، لیکن بچوں سے بہت سہارا دیا، میرے بچے مجھے حوصلہ دیتے ہیں، میں نے اکیلے ہی اتنا سب نہیں کیا۔''
70 سال بعد ماں سے بیٹا مل گیا:
عبدالقدوس منسی نامی شخص کو 10 برس کی عمر میں اپنے چچا کے گھررہنے بھیج دیا گیا تھا لیکن وہ وہاں سے بھاگ نکلا تھا اور اپنے گھر والوں سے کئی سالوں تک کے لیے جدا ہوگیا تھا۔
اس وقت عبدالقدوس کی پرورش کی ذمہ داری ان کی دو بہنوں نے لی تھی۔
پھرایک دوکاندار نے عبدالقدوس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ کردی تھی جس میں وہ اپنے خاندان کی تلاش میں مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے عبدالقدوس کی محنت رنگ لائی اور ان کی اپنی والدہ سے ملاقات ہوگئی، انیس سو انتالیس میں پیدا ہونے والے عبدالقدوس نے اس جذباتی لمحات پر کہا کہ ’یہ میری زندگی میں سب سے زیادہ خوشی کا دن ہے کیونکہ والدہ اور بہن نے ہاتھ پر موجود نشان کے باعث پہنچان لیا اور ان کی ملاقات 70 سال بعد اپنی والدہ سے ہوگئی۔
ان کے چرچے آج بھی ہو رہے ہیں۔
شادی کے 10 سال بعد بیوی نے چھوڑ دیا
:
معروف یوٹیوبر اور انفلوئنسر حسام احمد اعوان کی پسند کی شادی ہوئی تھی شُمائلہ سے، دونوں 10 سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے ان کی 6 سال کی ایک بیٹی حُسنہٰ بنتِ حسام بھی ہے۔ لیکن 10 سال بعد دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ کچھ ماہ قبل شمائلہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے بھی حسام کا نام ہٹا لیا تھا، البتہ یوٹیوب سے ان کا نام نہ ہٹایا تھا، جس پر لوگوں کو تشویش بھی تھی مگر کسی نے دھیان نہ دیا، لیکن اب دونوں نے کھل کر اپنے انسٹاگرام پوسٹ اور سٹوریز سے یہ واضح کردیا ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے سے راہیں جدا کرلی ہیں۔
حسام نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز اور پوسٹ میں کیپشن میں کچھ اس طرح کی باتیں کی ہیں کہ: '' کوئی دھوکہ کرے، مگر کسی کا دل نہ توڑے، موت آ جائے مگر دل کسی پر نہ آئے، شمائلہ نے میرا نام انسٹاگرام سے ہٹادیا تو یوٹیوب سے کیوں نہ ہٹایا، شہرت ملی تو مجھے ہی چھوڑ دیا، انہوں نے بلواسطہ یہ بھی کہہ ڈالا کہ بیوی نے مجھے پیسوں کی خاطر چھوڑ دیا، اپنی بچی کے لئے نئی زندگی جینے کے سفر پر گامزن ہوں، زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے مگر زندگی سے بہت کچھ سبق حاصل کر لیا ہے۔ جب لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکرگزار ہونا چھوڑ دیں تو پھر ان کی تباہی شروع ہو جاتی ہے۔ ''
یورپ میں :پاکستانی رکشہ چلا کر 20 لاکھ کماتا ہے
محمد ظہیر جوکہ جہلم سے تعلق رکھتے ہیں اور یورپ میں رکشہ چلاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ: '' ایک دن میں 250 یورو آرام سے کما لیتا یوں یہاں منٹ کے حساب سے پیسے ہیں جیسا کہ اگر کوئی شخص ان کے رکشے میں آدھا گھنٹہ گھومیں تو 60 یورو،15 منٹ کے 15 یورو اور40 منٹ کے 40 یورو لیکن اگر کوئی شخص اکیلا رکشے میں سفر کرے تو اسکے15منٹ کے 10 یورو بنتے ہیں۔
ان کی تصاویر بھی خوب وائرل ہوئیں۔
بوڑھی ماں کا خیال رکھنے والا شخص
:
ملتان سے تعلق رکھنے والے رہائشی ملک نصراللہ جو اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ بینائی سے محروم 90 سالہ بیمار بوڑھی ماں کی تیمارداری میں ملک نصراللہ کوئی کسرنہیں چھوڑتے۔
اپنی والدہ اں کے پیر بھی دباتے ہیں اور وقت پر خود اپنے ہاتھوں سے کھانا بھی کھلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ : '' وہ اولاد بہت بد نصیب ہے جو اپنے ماں باپ کو اولڈ ایج سینٹر چھوڑ آتے ہیں یا جائیداد کی وجہ سے مار دیتے ہیں وہ دنیا و آخرت دونوں جہاں میں رسوا ہیں۔ ایک دفعہ اپنی ماں کی خدمت کرکے دیکھیں تو اس سے دنیا و آخرت میں خوش رہیں گے۔
''