“شوہر کی دوسری شادی کی وجہ سے پریشان ہوں لیکن طلاق نہیں لوں گی۔ میں نے سمجھوتہ کرلیا ہے بچوں کی وجہ سے میں طلاق نہیں لے سکتی“
یہ مایوسی بھرے جملے کہنے والی خاتون چالیس سالہ ڈاکٹر ماریہ سعید تھیں جو ایف سی پی ایس سے سرٹیفائیڈ اور قابل پیڈیاٹرک کنسلٹنٹ یعنی بچوں کے امراض کی ماہر ڈاکٹر تھیں۔ ڈاکٹڑ ماریہ لاہور کے اسپتال میں ملازمت کرتی تھیں اور دو بچوں کی ماں تھیں۔ اٹھائیس ستمبر کو جب ان کے بھائی نے ان سے رابطہ نہ ہوپانے پر ان کے گھر کا دروازہ توڑا تو اپنی بہن کی لاش دیکھی۔ ڈاکٹر ماریہ کہ بھائی نے اپنے بہنوئی راشد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جس نے دو مہینے پہلے ہی ساہیوال میں دوسری شادی کی تھی۔
جسم پر زخموں کے نشان تھے
بظاہر کیس کی نوعیت دیکھتے ہوئے یہ کہنا آسان ہے کہ یہ ایک خودکشی کا کیس ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر وائرل بہت سی خبروں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹڑ ماریہ نے خودکشی نہیں کی بلکہ ان کو باقاعدہ ان کو قتل کیا گیا ہے کیونکہ ان کے جسم پر زخموں کے نشان تھے۔
گھر کی ملکیت کا تنازعہ تھا
ڈاکٹر ماریہ کے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹر عفان کا کہنا ہے کہ “میں نے ڈاکٹر ماریہ کے ساتھ کافی عرصہ کام کیا ہے اور ہمارے بہت سے مشترکہ دوست بھی تھے جنھوں نے ان کی تدفین میں شرکت کی۔ میں نے بہت سارے لوگوں سے ان کے بارے میں سوال کیا تو معلوم ہوا ہے کہ جو گھر ڈاکٹر ماریہ نے پیسہ پیسہ جوڑ کر اپنی محنت سے بنایا تھا وہ اس گھر کو اپنے یا اپنے بچوں کے نام کروانا چاہتی تھیں۔ کیونکہ ان کے شوہر کم پڑھے لکھے تھے اور دوسری شادی بھی کرچکے تھے اس لئے وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتی تھیں۔ لیکن ان کے شوہر اور سسر وہ گھر انھیں دینے کے لئے تیار نہیں تھے“
کافی عرصے سے تشدد برداشت کررہی تھیں
ڈاکٹڑ عفان کے میسج کے نیچے ان کے ایک اور دوست کا میسج تھا جس میں لکھا تھا کہ جن لوگوں نے ڈاکٹر ماریہ کا جنازہ دیکھا ہے وہ جانتے ہیں ان کے پورے جسم پر زخم تھے۔ وہ کافی عرصے سے گھریلو تشدد برداشت کررہی تھیں جس کی وجہ وہ گھر تھا جو ڈاکٹر ماریہ نے خود محنت کرکے بنایا تھا البتہ ان کے شوہر اس گھر کی ملکیت ان کے نام کرنے کو تیار نہیں تھے۔
شوہر نے ایک ہفتہ پہلے سی سی ٹی وی کیمرہ بند کردیا تھا
ڈاکٹر ماریہ کے دوستوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی موت کی خبر آنے سے دوگھنٹہ پہلے ہی اپنے بچوں کو آن لائن کلاس لینے میں مدد کی تھی اور ہسپتال والوں کو ایک کیس کے سلسلے میں ہدایات دی تھیں۔ ان کے دوستوں نے یہ بھی کہا کہ گھر کے تنازعے کی وجہ سے ڈاکٹر ماریہ کی اپنے سسر سے بھی تلخ کلامی ہوئی تھی جس میں ان کے سسر نے کہا تھا کہ تمیں طلاق دلوا کر گھر سے نکال دیں گے۔ جبکہ ایک ہفتہ پہلے ہی ان کے شوہر نے سی سی ٹی وی کیمرہ بند کردیے تھے۔