جب مجھے بریسٹ کینسر کا پتہ چلا تو میں بہت ڈر گئی تھی اور گھر والوں کو بتانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ مجھے پتا تھا وہ مجھ سے زیادہ خوفزدہ ہوجائیں گے۔ میری دوستیں کہتی تھیں کہ تمھاری شادی کرواتے ہیں تو میں ان سے کہتی تھی کہ ٹھیک ہے لیکن ان لوگوں کو یہ ضرور بتادینا کہ مجھے چھاتیوں کا کینسر ہے تو وہ نہیں مانتی تھیں“
صولت ظفر کینسر کی مریضہ رہ چکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک خطرناک بیماری ہے اور لوگ اس بیماری کے بارے میں اس لئے بھی بات نہیں کرتے کہ اگر کسی کو پتا چل گیا تو لڑکی کی شادی کیسے ہوگی۔
بریسٹ کینسر ایسا سرطان ہے جو چھاتیوں میں پیدا ہوتا ہے لیکن جسم کے مختلف حصوں یہاں تک کہ دماغ تک کو متاثر کرسکتا ہے۔ چھاتیوں میں گلٹیاں بننا شروع ہوتی ہیں جنھیں معمول کی چیز سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن اکثر وہ کینسر کی صورت سامنے آتی ہیں۔ یہ ایک انتہائی دردناک بیماری ہے لیکن اس کا علاج اب ممکن ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایشیاء میں بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال سترہ ہزار سے زیادہ خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہوتی ہیں۔ جبکہ غیر سرکاری سطح پر یہ تعداد چالیس ہزار ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خواتین اس بیماری کو نظر انداز کرتی ہیں یا شرم کی وجہ سے اس پر بات نہیں کرتیں جبکہ مرض کو قابو کرنے کے لئے اس پر بات کرنا ضروری ہے۔
بریسٹ کینسر سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟
یہ کینسر مردوں کو بھی ہوسکتا ہے لیکن خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں سو فیصد زیادہ ہے۔ اگر کسی خاتون کو اپنے سینے میں گلٹی یا تدیلی محسوس ہو تو بروقت تشخیص سے کینسر کو قابو میں کیا جاسکتا ہے البتہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پانچ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس مرض سے خود کو بچایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں بہت سی اداکارائی بھی برسیٹ کینسر کا شکار ہوچکی ہیں جن یں نادیہ جمیل ایک نمایاں نام یں۔
الکوحل کا استعمال کم رکھیں
جتنا زیادہ الکوحل کا استعمال ہوگا بریسٹ کینسر کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا ہے۔ مختلف ریسرچز سے یہ بات سمانے آئی ہے کہ الکوحل کی کم مقدار بھی بریسٹ کینسر کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔
وزن بڑھنے نہ دیں
اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کروائیں اور ان سے وزن کم کرنے کے لئے مدد لیں۔ کم خوراک لیں اور ورزش کے زریعے کیلوریز جلائیں تاکہ وزن آپ کی عمر کے حساب سے مناسب رہے۔
ایکٹو رہیں
جسمانی طور پر فعال رہنے سے آپ کا وزن بھی قابو میں رہے گا اور یہ بریسٹ کینسر کا خطرہ کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ ایک صحت مند مر اور خواتین کو اس کے لئے پورے ہفتے میں پچھتر سے ڈیڑھ سو منٹ تک ورزش کرنی چاہئیے۔
v
بریسٹ فیڈنگ
چھاتیوں کے سرطان سے روک تھام کے لئے بریسٹ فیڈنگ یعنی بچوں کو دودھ پلانا بھی ایک اچھا عمل سمجھا جاتا ہے۔ یہ کینسر کا خطرہ ٹالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پوسٹ مینو پاؤزل ہارمون تھیراپی
اکثر خواتین بڑھتی عمر میں ماہواری رک جانے کے بعد مختلف مسائل سے بچنے کے لئے مینوپاؤزل ہارمون تیراپیز کرواتی ہیں جس سے بھی بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔ اگر آپ ایسی کوئی تھیراپی کروانا چاہتی ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے پہلے تھیراپی کے رسک پر ضرور بات کرلیں اور کوشش کریں کہ علاج بغیر تھیراپی یا دواؤں کے ممکن ہوسکے۔