شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں چند ماہ سے تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ جہاں شہری اپنی قیمتی اشیاء سے محروم ہورہے ہیں تو وہیں ڈاکوؤں سے مزاحمت کی صورت میں بہت سی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔
حال ہی میں شہر کراچی کے علاقے کورنگی میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں مہران ٹاؤن کے رہائشی 37 سالہ عزیر الرحمن لٹیروں کے نشانے پر آکر فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوگئے۔
کورنگی انڈسٹریل ایریا کے رہائشی عزیر الرحمن بھی ایسے ہی افراد میں سے ایک ہیں جو ملٹی نیشنل ایس جی ایس لیبارٹریز میں سیکیورٹی کمپنی فیلکنز سیکیورٹی کی جانب سے گارڈ تعینات تھے۔
کیا واقعہ پیش آیا؟
ہوا کچھ یوں تھا کہ 10 فروری 2016ء کو کمپنی کے کیشیئر کے ہمراہ بینک سے رقم لے کر نکلے تو ڈاکوؤں ایک دم سامنے آگئے اور مزاحمت کرنے پر عزیز الرحمن کو فائرنگ کر کے زخمی کردیا۔
فائرنگ سے گولی جا کر عزیز الرحمن کی ریڑھ کی ہڈی میں لگی جس کے باعث وہ عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار ہوگئے۔ اُن ہولناک لمحات نے کمپنی کے ملازم عزیز الرحمن کی پھلتی پھولتی زندگی اجاڑ دی۔ عزیز الرحمن دو بچوں کے والد ہیں جو اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن اپنے والد کے بے روزگار ہونے کے بعد انہوں نے اسکول چھوڑ دیا۔ لیکن اب روزگار جانے اور معذوری کی وجہ سے یہ اسکول چھوڑنا پڑا وہیں عزیز الرحمن کو اپنے والدین کی جانب سے ملنے والا ذاتی مکان بھی بیچنا پڑ گیا۔
عزیز الرحمن کی اہلیہ گھر کے خراب حالات اور معاشی مشکلات کی وجہ سے ان کا ساتھ چھوڑ گئیں اور اب وہ اپنے بھائی کے گھر مقیم ہیں جو محدود وسائل کے باوجود بھائی کی دیکھ بھال اور بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔
عزیز الرحمن نے اپنے حوالے سے بتای کہ میں ٤ سال سے معذوری اور سخت معاشی حالات کا شکار کا کہنا ہے کہ کراچی کا شہری ہوں، گزشتہ چار سال سے اسٹریٹ کریمنل کی گولی لگنے سے تاحیات معذوری کا شکار ہوں۔ اسی معذوری کی حالت میں سیٹیزن پورٹل پر 2019ء سے بہت سی ایپلیکیشن بھیج چکا ہوں لیکن ابھی تک حکومت کا کوئی بھی نمائندہ میری مدد کو نہیں آیا۔