پاکستان میں 2005 میں آنیوالا زلزلہ آج ہی کے دن 8 اکتوبر کو آیا تھا، اگرچہ زلزلہ 2005 میں آیا تھا اور ہزاروں افراد اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ لیکن اس زلزلے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے پیارے آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔
صبح آنے والے زلزلے نے نہ صرف رہائشی عمارتوں کو زمین بوس کر دیا بلکہ اسکولوں کو بھی تباہ کر دیا تھا۔ چونکہ زلزلہ صبح کے وقت آیا تھا یہی وجہ ہے کہ طالب علم بڑی تعداد میں جاں بحق ہوئے تھے، چھوٹے بچے، خواتین کی تعداد بھی زیادہ تھی۔
اس زلزلے نے کئی گھر ویران کر دیے تھے کوئی یتیم ہو گیا تھا، تو کوئی مسکین، کسی کا گھر ٹوٹ گیا تو کوئی لاوارث ہو گیا تھا۔ آج 16 سال بعد بھی وہ فیملیز اپنے پیاروں کو یاد کرتی ہیں وہ عینی شاہد سہمے ہوئے ہیں جنہوں نے اس زلزلے کو قریب سے دیکھا تھا۔
اس زلزلے میں اسلام آباد ک مارگلہ ٹاور بھی شدید متاثر ہوا تھا، مارگلہ ٹاور مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، جبکہ اس عمارت کے ملبے سے کئی دنوں بعد بھی لعشیں نکالی جا رہی تھی صرف اس عمارت میں 250 سے زائد افراد دبے ہوئے تھے۔
اسی ٹاور کی ایک رہائشی اور بدقمست فیملی کے دو افراد بھی لقمہ اجل بن گئے تھے۔ فرید ضیاء خان بھی اپنی اہلیہ حنا فرید بیٹے دانش، ندا اور ناہیا کے ساتھ رہائش پزیر تھے۔ ضیاء فرید صاحب زلزلے کے وقت لاہور میں تھے، بیٹے دانش اور ندا دبئی میں تھے اور اہلیہ حنا اور چھوٹی بیٹی ناہیا اس بدقسمت ٹاور میں موجود تھے جب وہ زمین بوس ہوا۔
ناہیا پورے گھر کی چہیتی بیٹی تھی، جبکہ ماں تو پھر ماں ہے۔ لیکن اس صورتحال میں بھی ماں اور بیٹی کو بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ دونوں ماں اور بیٹی اس زمین بوس عمارت کے ملبے تلے تھے۔ جبکہ شوہر فرید صاحب اور باقی بچے پریشان حال اسی امید میں تھے کہ شاید ملبے تلے ماں اور بہن کو بچا لیا جائے، شاید وہ زندہ ہوں۔
حنا کی کزن کا کہنا تھا کہ میں اس دن کافی تھکی ہوئی تھی اور اپنے کمرے میں آرام کر ہی تھی جب مجھے کال آئی کہ بہت بڑا زلزلہ آیا ہے، مارگلہ ٹاورز کو کچھ ہوا ہے، حنا کال نہیں اٹھا رہی ہیں، میں ان کی طرف جا رہا ہوں، اللہ سب بہتر کرے۔ میں اس مسیج کو اہمیت نہیں دی۔
لیکن پھر میری امی کا میسج آیا جس میں وہ کہہ رہی تھیں کہ حنا اور ناہیا لاپتہ ہو گئی ہیں، اللہ سے دعا کرو۔ حنا فرید کی بیٹی 6 ماہ کی حاملہ تھی جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا، انہیں والدہ اور چھوٹی بہن کی اشد ضرورت تھی، لیکن وہ اس مشکل وقت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنے والی تھیں۔
دونوں بھائی بہن فورا سے دبئی سے پاکستان پہنچے تھے۔ دو دن تک فیملی اسی امید میں تھی کہ کوئی کرشمہ ہو جائے گا۔ مگر پھر اچانک خبر آئی کہ والد نے بیٹی ناہیا کی لعنش کو شناخت کر لیا، میں نے بیٹی کے نئی چپلوں سے اسے پہچانا تھا جو بیٹی نے ایک دن پہلے مجھے دکھائی تھیں۔
اور اس کے بعد ماں کی وفات کی خبر بھی فیملی کو مل گئی بیٹی اس وقت اس حال میں تھی کہ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ آنے والی نئی زندگی کے لیے خوش ہو یا پھر ماں اور بہن کو الوداع کہے۔
ماں اور چھوٹی بہن کی وفات نے اس پوری فیملی کو سوگوار کر دیا تھا، ہر ایک آنکھ اشکبار تھی، جو بھی اس فیملی اور حنا فرید کا سنتا یہی کہتا کہ وہ بہت خوش اخلاق، ملنسار اور اچھی عورت تھیں، جو ہر ایک کا بھلا چاہتی تھیں۔
فرید صاحب کی فیملی تو اسلام آباد کی تھی مگر آزاد کشمیر کی ناز آج بھی لاپتہ تصور کی جاتی ہے۔
16 سالہ ناز گھر سے اسکول کے لیے نکلی تھی، والدین کو خدا حافظ کہا اور تعلیم کی راہ میں چل دی، مشکل سے ایک گھنٹہ ہی گزرا ہوگا، کہ 7 اعشاریہ 6 شدت کے زلزلے نے آزاد کشمیر میں تباہی مچا دی۔
ناز کے والدین بیٹی کی موت کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں، وہ اب بھی اسی امید کے ساتھ جی رہے ہیں کہ ہماری بیٹی زندہ ہے۔ ناز کے والدین کہتے ہیں کہ بیٹی کو بس اسٹاپ، اسپتال، پارکس، اسکول غرض ہر جگہ ڈھونڈا مگر بیٹی کہیں نا ملی۔ والدین کہتے ہیں کہ بیٹی کو ایک اخبار میں دیکھا تھا اس تصویر میں وہ ایک اسپتال میں زیر علاج تھیں اور ان کے سر میں چوٹ لگی تھی۔
والد کہتے ہیں کہ بیٹی بہت ذہین تھی، عین ممکن ہے سر پر چوٹ لگی ہو اور وہ اپنی یاد داشت کھو بیٹھی ہو۔ اس کی زندگی کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں ساتھ ہی اس کے انتقال سے متعلق بھی کوئی خبر نہیں ہے۔