مجھ پر غداری کا مقدمہ بھی ہوسکتا ہے۔۔ جانیے عامر لیاقت نے استعفیٰ دینے کی کیا وجہ بتا دی؟

image

پاکستان کے معروف ٹی وی اینکر اور پی ٹی آئی کے رہنما عامر لیاقت حسین نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو کے دوران اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کی وجہ بتا دی۔

گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے کراچی سے منتخب قومی اسمبلی کے رکن عامر لیاقت حسین نے ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دیا ہے۔

عامر لیاقت نے بتایا کہ پی ٹی آئی سے استعفیٰ دینے والے وہ اکیلے نہیں بلکہ، 2 اور قومی اسمبلی کے اراکین استعفیٰ دے رہے ہیں۔ جب اینکر نے سوال کیا کہ آپ نے استعفیٰ کیوں دیا؟ اس سوال کے جواب میں عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ استعفیٰ دینے کی وجہ، میں آپ کو پوری نہیں بتا سکتا ہوں۔ مگر یہ کہہ سکتا ہوں کہ، وجہ اتنی خطرناک ہے کہ پور پاکستان دھل کر رہ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کے میں ملک سے بہت محبت کرتا ہوں، اس لیے میں وجہ بتانا نہیں چاہتا ہوں۔

تاہم انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے بہت برا ہو رہا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے۔ عامر لیاقت نے بتایا کہ کراچی شہر کو تباہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیروں اور مشیروں کے نام پنڈورا پیپرز میں آئے ہیں۔ کیوں فیصل واڈا اور شوکت ترین کو نکالتے نہیں ہیں، کیوں یہ سب اب تک اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

عامر لیاقت حسین نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اس قابل بھی نہیں ہوں کہ مجھے ترجمان بنایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ استعفیٰ دینے کی وجہ یہ نہیں ہے، وجہ اگر میں نے بتا دی تو پورا پاکستان دھل کر رہ جائے گا۔ انہوں نے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وجہ ایسی ہے کہ مجھ پر غداری کا مقدمہ بھی چل سکتا ہے۔

عامر لیاقت حسین نے کہا کہ میں اب پی ٹی آئی کا حصہ نہیں ہوں۔ میں پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو نہیں چھوڑوں گا۔

اس کے علاوہ عامر لیاقت حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر آخری غزل کے نام سے پوسٹ شیئر کی جس کے ساتھ انہوں نے بندوق کی تصویر بھی لگائی ہے۔

واضح رہے چند روز قبل عامر لیاقت حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US