غریب تھا تو 2 کمروں کے گھر میں رہتا تھا لیکن اب ۔۔ مشہور کمپنی سے کروڑوں کی دولت کمانے والے غریب لڑکے کی کہانی جس نے سب کو حیران کر دیا

image

“یہ وہ کمرہ ہے جس میں میں نے چار سال گزارے میں یہاں سے جاتے ہوئے کافی دکھی تھا لیکن پچیس سال گزرنے کے بعد آج یہاں واپس آیا ہوں تو یہاں کی ہر بات مجھے یاد ہے“

کہتے ہیں دولت، مرتبہ اور شہرت آتے ہی انسان میں گھمنڈ آجاتا ہے مگر یہ صرف ان کم ظرف لوگوں کی حقیقت ہے جو اپنی محنت کے بجائے دھوکہ دہی سے زندگی کی آسائشیں حاصل کرتے ہیں۔ جب کہ ایک محنتی اور نیک دل انسان اپنی محنت کے بل پر جتنی بھی کامیابی حاصل کرلے وہ پہلے سے زیادہ عاجز اور اچھا انسان بن جاتا ہے۔ اس آرٹیکل میں “ہماری ویب“ کے پڑھنے والوں کو ایک ایسے لڑکے کی کہانی بتائی جارہی ہے جو اب آئی ٹی کی دنیا میں اپنا نام اور مقام رکھتا ہے۔ جی ہاں یہ کہانی ہے گوگل کے سی ای او سندر پچائی کی۔

دو کمرے تھے اور زمین پر سوتے تھے

سندر پچائی ایک ایسے غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا گھر اتنا چھوٹا تھا کہ اس میں صرف دو کمرے تھے اور وہ زمین پر سویا کرتے تھے۔ سندر کے والد غریب تھے لیکن ایک چیز جس ہر انھوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا وہ ان کے بچوں کی تعلیم تھی۔ جہاں تک ممکن ہوا انھوں نے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دلوائی۔ سندر نے بھی باپ کو مایوس نہیں کیا اور اسکالر شپ پر پڑھتے ہوئے اسٹینڈ فورڈ چلے گئے۔ سندر اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “میرے والد نے اپنی سال بھر کی تنخواہ کے برابر رقم خرچ کرکے مجھے جہاز کا ٹکٹ دلایا اور ملک سے باہر بھیجا۔ جب وہ مجھے فون کرتے تھے تو اس کا بل اتنا ہوتا تھا جتنی ان کی ایک ماہ کی تنخواہ ہے۔ والدین کی محنت رنگ لائی اور ان کا لائق فائق بیٹا جس نے 2004میں گوگل میں ملازمت شروع کی تھی 2015 تک وہاں کا سی ای او بن گیا۔

حیرت انگیز دماغ

بارہ سال کی عمر میں جب سندر کے گھر پہلا فون لگا تو وہ جو بھی نمبر ایک بار ڈائل کرتے تھے حیرت انگیز طور پر وہ نمبر انھیں یاد ہوجاتا تھا۔ تب سندر کو پتا چلا کہ وہ کافی تیز دماغ کے مالک ہیں۔

وہ ہاسٹل جہاں سندر نے چار سال گزارے

خرگپور نامی شہر کے ہوسٹل میں سندر پچائی چار سال تک رہے جہاں انھوں نے بی ٹیک کا کورس کیا۔ حال ہی میں سندر انڈیا کے دورے پر آئے تو اپنے اس ہاسٹل بھی گئے جہاں ان کا کمرہ ب- 308 آج بھی ویسے کا ویسے ہی تھا۔ اس کمرے میں رہنے والے طالب علم ہرشیل پنارسی کا کہنا ہے کہ “سندر نے کافی وقت کمرے میں اکیلے گزارا“ سندر کے ایک استاد نے بتایا کہ سندر پچائی ہمیشہ سے ایک بہترین طالب علم تھے ۔ وہ یہاں آئے تو انھوں نے مجھ سے ایک جذباتی ملاقات کی اور میری خیریت دریافت کی۔ ایک اچھا طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ مجھے ہمیشہ سے پسند تھا“

سندر پچائی نے اپنے ہاسٹل کے کمرے کو دیکھ کر کہا “جب میں یہاں رہتا تھا تو کمرے کی کھڑکیوں کے شیشے اکثر ٹوٹ جاتے تھے کیونکہ نیچے لڑکے کرکٹ کھیلتے تو تو گیند شیشوں پر لگتی تھے۔ مجھے یہاں پچیس سال بعد واپس آکر کافی خوشی ہورہی ہے


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US