گرمیوں کی چھٹیاں گزارنی ہوں یا ہنی مون منانا ہو لوگ عام طور پر شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ عام طور پر یہ سمجھی جاتی ہے کہ یہ علاقے یورپ کے مقابلے میں بہت سستے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات قدرتی خوبصورتی رکھنے میں یورپ سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔
لیکن بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ان خوبصورت ہری بھری وادیوں میں کچھ ایسی مخلوقات کا بھی بسیرا ہے جو کبھی کبھار اپنی جھلک دکھا کر لوگوں کو عمر بھر کے خوف میں مبتلا کردیتی ہیں۔ آج آپ کو شمالی علاقوں سے منسلک ایسی کہانیاں سنائی جائیں گی جس سے آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔
تمھیں لینے آئی ہوں
یہ واقعہ دس سال قبل ایک فوجی کے ساتھ پیش آیا۔ امجد فوج میں بھرتی ہوا تو کئی کئی مہینے گھر سے دور رہنا اس کی مجوبری بن گیا۔ ایک رات جب وہ گھر والوں کو سرپرائز دینے کی غرض سے اپنے آبائی گھر سوات کی طرف رواں دواں تھا تو اچانک اس کی گاڑی بند ہوگئی۔ یہ سوچ کر کہ اب تو پیدال کا راستہ ہے وہ گاؤں پہنچ جائے گا امجد لاپرواہ ہو کر اگے بڑھنے لگا۔ اس دور میں چوری چکاری کا اتنا خطرہ تو تھا نہیں تو امجد کو جیپ کی کوجیپ کی فکر نہیں تھی۔ تھوڑی دور چلنے پر اسے سڑک کے کنارے سرخ عروسی لباس میں ایک دلہن نظر آئی۔ امجد اکیلی دلہن کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ لیکن ایک فوجی ہونے کے ناطے وہ کسی کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتا تھا اس لئے اس نے دلہن سے سوال کیا “محترمہ آپ کون ہیں“
دلہن نے کچھ نہیں کہا سر جھکائے نیچے دیکھتی رہی۔
میڈم اس سنسان راستے پر تو دن میں کوئی نہیں آتا۔ آپ مجھے بتادیں آپ یہاں کچھ لینے آئی ہیں شاید میں کچھ مدد کر سکوں۔ امجد نے تھوڑا جھنجھلاتے ہوئے پوچھا اس بار امجد کا سوال سن کر دلہن میں جنبش ہوئی اور اس نے چہرہ اوپر اٹھایا۔ سرخ جوڑے میں خوفناک حد تک سفید رنگ کی دلہن کو دیکھ کر امجد کا دل دھک سے رہ گیا۔

دلہن نے اپنا ہاتھ سیدھا کیا اور امجد کی طرف اشارہ کرکے ہنستے ہوئے کہا “میں تمھیں لینے آئی ہوں، میرے ساتھ چلو گے" خوف سے امجد کے دل میں سنسنی پھیل گئی اور وہ وہاں سے سر پٹ بھاگا۔ بھاگتے بھاگتے اسے ایک شخص کے سلام کرنے کی آواز آئی جس سے اس کی جان میں جان آئی۔ بات چیت کے دوران پتہ چلا کہ اس شخص کا گھر قریب ہی ہے اور امجد چاہے تو وہاں ٹہر سکتا ہے۔ امجد نے موقع نہ گنواتے ہوئے ہامی بھر لی۔ رات بھر سکون سے سونے والا امجد صبح اٹھتا ہے تو دیکھتا ہے وہ آدمی کہیں نہیں ہے۔ امجد آس پاس کے لوگوں سے اس آدمی کے نام سے استفسار کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے اس نام کا تو ایک سپاہی تھا جو اسی گاؤں میں رہتا تھا لیکن 1965 کی جنگ میں وہ شہید ہوگیا تھا۔ البتہ آج بھی گاؤں میں کسی پر مصیبت آجائے تو اس نیک دل فوجی کی روح لوگوں کی مدد کرنے آجاتی ہے۔
جن کا کھانا
اسی راستے سے سفر کرنے والے دوستوں کے ایک گروپ نے بتایا کہ ایک دن وہ سفر کرنے نکلے اور بھوک لگی تو اسی راستے پر کھانے کا ٹھکانہ ڈھونڈنے لگے لیکن انھیں کچھ نہ ملا۔ پھر اچانک دیکھا تو ایک خوبصورت سفید ٹینٹ کے نیچے زبردست کھانے کا اہتمام تھا۔ اس ویرانے میں ایسی دعوت دیکھ کر وہ حیران تو بہت ہوئے لیکن بھوک سے بے حال پیٹ نے دماغ کو سوچنے کی مہلت نہ دی۔ کھانا کھاتے ہی وہ اس ڈر سے وہاں سے بھاگے کہ کہیں جس کی دعوت تھی وہ لوگ وہاں آ نہ جائیں۔ لیکن واپس آنے کے بعد ان سب کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی کسی کو الٹیاں نہیں رک رہی تھیں تو کسی کو بخار نہیں اتر رہا تھا۔ تعویذ دینے والے مولوی صاحب آئے تو دیکھتے ہی معاملہ سمجھ گئے اور انھیں بتایا کہ وہ جنوں کی دعوت تھی جسے انھوں نے ہڑپ کرلیا اور اسی وجہ سے وہ کھانا انھیں ہضم نہیں ہوسکا۔