پاکستانی سیاست اور پاکستانی میڈیا کئی مرتبہ سنجیدہ خبروں اور حالات کو منفی طور پر دکھاتا ہے جو کہ ملکہ صورتحال کے لیے کافی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ کئی سیاستدانوں نے بہت سی ایسی باتیں کی ہیں جن سے ملکی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوئے ہیں۔
ہماری ویب کی اس خبر میں آپ بتائیں گے کہ کس طرح ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تقرری کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ جنرل فیض حمید کی بھی کردار کشی کی جا رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم ہوں گے جبکہ جنرل فیض حمید کو کمانڈر پشاور تعینات کر دیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک تاثر دیا جا رہا ہے کہ فیض حمید کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے، اور عمران اور ریاستی اداروں میں رنجشیں پیدا ہو رہی ہیں۔ مگر ایسے صورتحال مکمل طور پر افسانہ ہے جو کہ جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہیں۔
ایک اور تاثر جو مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز سے متعلق دیا جا رہا ہے کہ مریم نواز کی جانب سے دی جانیوالی دھمکی کی وجہ سے جرنل فیض حمید کو ہٹایا گیا ہے واضح رہے مریم نواز نے حال ہی میں پریس کانفرنس میں جنرل فیض حمید اور اعلیٰ علدیہ سے بھی جواب طلبی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ جنرل فیض حمید جواب دینے کو کہا تھا، مگر گراؤنڈ ریلٹی قدر مختلف ہے۔
نئے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم موجودہ صورتحال میں ہر لحاظ سے تجربہ رکھتے ہیں، انہوں نے کراچی میں بھی زمہ داریاں نبھائی ہیں، بلوچستان اور کے پی میں رہ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں کئی لحاظ سے تجربہ حاصل ہے۔ جبکہ دوسری جانب جنرل فیض حمید کو کمانڈر پشاور تعینات کرنے کا مقصد بھی افغان طالبان، سرحدی صورتحال کو مانیٹر کرنا ہو سکتا ہے، جیسا کہ جنرل فیض حمید سرحدی معاملات اور افغان طالبان سے کامیابی کے ساتھ معاملات کو دیکھ چکے ہیں۔