14 اگست کو مینارِ پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کی جانب سے انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ کسی کے کہنے پر گریٹر اقبال گئی تھیں اس کے پاس ٹک ٹاکر کی کچھ نازیبا ویڈیوز بھی ہیں، جن کے ذریعے وہ انہیں بلیک میل کر رہا ہے۔
گذشتہ روز یہ خبر پورے سوشل میڈیا سمیت الیکٹرانک میڈیا پر بھی کافی چل رہی تھی اور تاحال چل رہی ہے۔
عائشہ اکرم نے 8 اکتوبر کو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال کو درخواست جمع کرائی کہ انہیں ان اک ساتھی ٹک ٹاکر ’ریمبو‘ بلیک میل کر رہا ہے۔
درخواست میں عائشہ اکرم نے بتایا ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک جانے کا سارا منصوبہ ریمبو کا تھا۔
ٹک ٹاکر کے مطابق ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ عائشہ اکرم کو گریٹر اقبال لے جانے کا پلان کیا اور ساتھ ہی ان کی نازیبا ویڈیوز کے ذریعے وہ انہیں بلیک میل کرتا رہا ہے اور ان سے اب تک 10 لاکھ روپے بھی وصول کر چکا ہے۔
خاتون نے درخواست میں بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ ریمبو کو اپنی نصف تنخواہ بھی دیتی ہیں۔
عائشہ اکرم نے تحریری درخواست میں ایک حیران کن انکشاف بھی کیا کہ ’ریمبو‘ کے ایک اور ساتھی ’بادشاہ‘ نے ٹک ٹاکرز کا ایک گینگ بنا رکھا ہے جو دوسرے لوگوں کو بلیک میل کرتا ہے۔
خاتون کے مطابق ’بادشاہ‘ نامی ٹک ٹاکر کی سربراہی میں قائم ٹک ٹاکرز کا گینگ دوسرے لوگوں کو بلیک میل کرکے ان سے رقم بٹورتا ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال کا اس کیس کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ کیس بہت ہی حساس ہے جس پر ایک ٹیم بنا کر تحقیقات کی جائیں گی۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین یہی کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اقرار الحسن اور یاسر شامی اب کہاں ہیں؟ اس واقعے کے بعد وہ اب منظرعام سے غائب کیوں ہوگئے ہیں؟