اپنے چاچا کے بیٹے کو دیکھو ۔۔ وہ 5 عادات جو ہر دیسی فیملی میں پائی جاتی ہیں، جو ہو سکتا ہے آپ کے گھر میں بھی ہوں

image

ویسے تو ہمارے سماج میں ایسی کئی روایت موجود ہیں۔ جو کہ دیسی فیملیز میں پائی جاتی ہیں۔ ان فیملیز میں بڑے عموما چھوٹوں پر حاوی ہوتے ہیں۔ اگرچہ ثقافتی طور پر دیسی فیملیز ایسے اصول و ضوابط تھے جو کہ ہر ایک کی عزت نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتی تھی۔ ہماری ویب کی اس خبر میں بھی آپ کو کچھ ایسی روایتوں کے بارے میں بتائیں گے جو ہو سکتا ہے آپ کے بھی گھر میں ہوں۔

دوسروں سے متوازن:

دیسی فیملیز میں ایک عام رجحان یہ بھی ہے کہ دوسروں کو دیکھ کر اپنے لیے یا اپنے گھرانے کے لیے بھی ایسی ہی خواہشات کو دیکھتے ہیں۔ اگر چاچا یا طایا کے بچے نے اچھی جامعہ میں داخلہ لے لیے یا وہ ڈاکٹر یا اینجینئیر کرے تو والدین اپنے بچے کو بھی یہی طعنہ دیتے ہیں۔ اس طعنے کی وجہ سے کئی بچے ذہنی آزمائش کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں بچے عموما منفی سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

والدہ کی بلیک میلنگ:

والدہ کے قدموں تلے جنت ہے، یہ بات ہمیشہ ہی سے ہم سب کو مطمئن کرتی ہے اور والدین کی اور والدہ کی خدمت کے لیے مزید موٹیوویٹ کرتی ہے۔ لیکن اس دور میں سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں نے کچھ ایسے اثرات ڈالے ہیں۔ لیکن آج کل مائیں بچوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر دہی لینے نہ گئے تو خود لینے چلی جاؤں گی، اگر پاس بیٹھے ریموٹ انہیں نہیں دیا، تو سب کام مجھے ہی کرنے پڑتے ہیں۔ میں امی کے گھر چلی جاؤں گی پھر کرنا سارے کام خود۔ خیر یہ ایک ایسی روایت جو کہ عموما ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جہاں ماں اور بیٹے کا رشتہ کافی ہنس مک اور سنجیدہ دونوں ہوتا ہے۔

دوسروں کے سامنے چوڑے ہونا:

خیر یہ بھی ایک ایسی روایت ہے جو کہ دیسی فیملیز میں دیکھی گئی ہے۔ پاکستانی سماج میں ماضی میں جب کبھی کوئی بچہ شیطانی کرتا یا ایسی حرکت کرتا جو کہ عموما معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں بڑے بچوں کو بغیر کسی موقعکی مناسبت کے ڈانٹنا شروع کر دیتے تھے، جسے عموما گھر کے چھوٹے یہ کہتے تھے کہ چوڑا بن رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا منفی اثر تھا جو کہ بچوں اور بڑوں کے بیچ ایک ایسا فرق پیدا کر رہے ہیں جو کہ پرانی روایتوں کو توڑ رہا ہے۔ پہلے زمانوں میں بچوں کو پیار سے سمجھایا جاتا تھا، تاکہ بچے کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور وہ بات سمجھ بھی جائے۔

حد سے زائد پلیٹ بھرنا:

ایک غلط اور منفی بات یہ بھی ہے کہ دیسی فیلمیز جب کبھی شادیوں پر جاتے ہیں۔ تو اپنی پلیٹ کو اس حد تک بھر لیتے ہیں کہ جیسے اب دوبارہ انہیں کبھی کھانا ہی نہیں ملے گا۔ اس منفی روایت نے نہ صرف کھانے کو ضائع کرنے کو فروغ دیا بلکہ انسان کی نیت کو بھی خراب کر دیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US