کعبہ بھی لے کر گئے شاید مجنوں مان جائے مگر ۔۔ جانیے لیلٰی مجنوں کی اس رلا دینے والی کہانی کے بارے میں دلچسپ معلومات

image

اکثر لوگوں نے فلموں ڈراموں میں کچھ ایسی رومانوی کہانیاں سنی ہیں جو کہ آج بھی بہت سے لوگوں کو یاد ہیں۔ ان کہانیوں کی بنا پر اکثر لوگ رومانوی باتوں کو یاد کرتے ہیں جبکہ محبت سے متعلق بھی ان کہانیوں کو جوڑا جاتا ہے۔ ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو لیلا مجنوں کی کہانی کے بارے میں بتائیں گے، جو آج بھی محبت کی ایک لازوال کہانی کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔

لیلیٰ مجنوں کی داستان بھی رومانوی کہانیوں اور داستانوں میں صف اول کی کہانیوں میں پائی جاتی ہے۔ اس داستان کو مشہور بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشت نے اپنی فلم آجا نچلے میں بھی پیش کیا تھا۔ جبکہ اس داستان کو ادبی طور پر ایک ایسی رومانوی داستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس کا انجام افسردہ ہوا تھا۔ مشہور شاعر بابا بھلے شاہ نے بھی اپنی شاعری میں لیلٰی مجنوں کا ذکر کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنی شاعری میں لیلٰی کی کالی رنگت کو قرآن مجید کی کے لفظوں کی سیاہی سے تشبیہ دیا ہے۔ یہ بھی کہا ہے ہے تیری آنکھ ہی ایسی نہیں جو لیلیٰ کی خوبصورتی کو دیکھ سکے۔
لیلٰی مجنوں دونوں عرب معاشرے سے تعلق رکھتے تھے۔ لیلیٰ کا گھرانہ باعزت، اور باوقار گھرانہ تھا، جبکہ مجنوں بھی ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ لیلیٰ مجنوں دونوں کی ملاقات بکریاں چراتے چراتے ہوئی تھی، اس طرح روز بکریاں چراتے یہ دونوں بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ لیلٰی کا اصل نام لیلٰی بنت مہدی ابن سعد تھا جبکہ مجنوں کا اصل نام قیس ابن الملوح ابن مزاحم تھا۔ مجنوں نام بھی لیلیٰ کے عشق میں اس حد تک پاگل ہونے کی وجہ سے پڑا تھا کہ وہ اپنا آپا ہی کھو بیٹھا تھا۔ چونکہ لیلیٰ اور مجنوں ساتھ ہی مدرسہ بھی جایا کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو گئی تھی۔ مجنوں کی نگاہیں تعلیم سے زیادہ لیلٰی پر ہوتی تھیں، جبکہ لیلیٰ بھی مجنوں کو مسکرا کر جواب دے دیا کرتی تھی۔
تعلیم میں کمزور ہونے پر استاد مجنوں کو مارا کرتے تھے، لیکن مجنوں نے اپنی نگاہوں کو لیلیٰ کی جانب سے ہٹنے نہیں دیا۔ کبھی مجنوں کو مار پڑتا دیکھ لیلٰی کی آنکھیں بھر آتی تھیں تو کبھی لیلٰی کو مار پڑتا دیکھ مجنوں بے ساختہ اپنی ہتھیلی آگے کر دیا کرتا تھا۔ دونوں کی اس محبت کو دیکھ کر استاد نے والدین کو شکایت کر دی، جس پر لیلٰی کے والدین نے لیلٰی کے مدرسے اور باہر نکلنے دونوں پر پابندی عائد کر دی، جبکہ مجنوں پر بھی اس کے والد نے سخت پہرے داری شروع کر دی۔ مجنوں کا عشق اس قدر شدید تھا کہ اس نے لیلیٰ کے والد سے بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا، لیکن والد نے اس رشتہ کو ٹھکرا دیا، اور لیلیٰ کی شادی کہیں اور کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ رشتہ مانگنے پر لیلیٰ کے بھائی تبریز نے مجنوں کو مارنے کی کوشش کی جس پر مجنوں نے تبریز کا قتل کر دیا۔ اس پر مجنوں کو سزا بھی سنائی جاتی ہے۔ لیلیٰ کا رشتہ کسی اور کے ساتھ ہونے پر مجنوں ٹوٹ سا گیا تھا، اسے اپنے آپ کا ہوش نہیں تھا۔ اس وقت مجنوں کے باپ کو لوگوں نے مشورہ دیا کہ بیٹے کو لے کر مکہ جاؤ اور اللہ سے بیٹے کے لیے خیر کی دعا مانگو۔ والد بیٹے کو لے کر مکہ چلا گیا، اور وہاں اللہ سے بیٹے کو صحیح راہ دکھانے کی دعا کرتا رہا، جبکہ مجنوں نے بیت اللہ میں ایک ہی دعا کی جس پر والد بھی پریشان ہو گئے۔ مجنوں نے کہا کہ اے اللہ مجھے لیلیٰ اور اس کی قربت عطا فرما۔
لیلیٰ مجنوں کی محبت میں گرفتار تو تھی، مگر گھر کی عزت کی خاطر مجبور تھی۔ مجنوں کو جب لیلٰی کی شادی کی خبر ملتی ہے تو گویا اس کے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی ہو، وہ چیخ اٹھتا ہے، کچھ کہے بغیر کہیں غائب سا ہو جاتا ہے۔ پھر ایک دن صحرا سے مجنوں کی لعش ملتی ہے۔ کہتے ہیں کہ شادی خبر نے اسے پاگل بنا دیا تھا۔ وہ درختوں، پہاڑوں اور جنگلی جانوروں سے ایک ہی سوال پوچھتا کہ میری لیلٰی کہاں ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US