جانوروں سے محبت کرنے والے لوگ آج بھی دنیا میں موجود ہیں، جن کی وجہ سے بہت سے جانوروں کی نگرانی کی جاتی ہے، کھانا پینا وقت پر فراہم کیا جاتا ہے۔ کچھ دنوں سے چڑیا گھر کے حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ جانوروں کی اب تر حالت دیکھ کر انسان ہونے پر افسوس ہونے لگا ہے۔ کھانا پینا بند کیا تو پہلے سے بیمار شیر مرگیا اور اب ہاتھیوں کی حالت موت کا پتہ بتا رہی ہے۔
ایسے میں جہاں کئی پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر زُو کلچر ختم کرنے کا مطالبہ کیا وہیں سوشل ایکٹیسوٹ اور جانوروں کی ٹیک کیئر کرنے والی عائشہ چندریگر نے وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ یہ زو کلچر ختم کیا جائے، اگر جانوروں کو نہیں پال سکتے تو ان کو وہیں بھیج دیا جائے جہاں سے ان کو لایا گیا تھا۔ یہ کوئی طریقہ نہیں ہوتا کہ ہم کسی کو اپنی تفریح کی خاطر بھوکا پیاسا مار دیں اور پھر ان کو دیکھنے آنے والے تماشائی ان کی بے بسی پر کھل کھٹے مار کر ہنسیں۔
عائشہ نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ:
''
ایک مرتبہ میں اپنی والدہ کے ساتھ چڑیا گھر گئی، میں نے دیکھا کہ بیچارہ ہاتھی بھوک سے بدحال ہو رہا ہے، اس کو دیکھنے والے لوگ اس کو تنگ کر رہے ہیں کوئی کھانے کی چیز پھینک کر مار رہا ہے تو کوئی اس کو دیکھ کر ہنس رہا ہے، جس پر ہاتھی پریشان ہو رہا ہے اور وہ اپنی نفی کا اظہار کر رہا ہے کہ مجھے نہیں دیکھو، میں چپ ہوں، وہ لوگوں سے ڈر کر دور بھاگ رہا ہے، کیا ہم انسان بنتے بنتے یہ بھول گئے کہ جانوروں کے بھی احساسات ہیں، ہمارے دین نے ہمیں ان کا خیال رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔
''
واضح رہے کہ عائشہ چندریگر جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرتی ہیں اور اینیمل ریسکیو آفیشل کا ادارہ چلاتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان بھر میں جانوروں کی خدمت کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔