گزشتہ روز سیالکوٹ میں توہین کے مزہب کے الزام میں فیکٹری مینیجر کو سر عام زندہ جلا دیا گیا تھا، اس فیکٹری مینیجر کا تعلق سری لنکا سے تھا۔
پریانتھا کمارا 2010 میں پاکستان آئے تھے جہاں انہوں نے فیصل آباد کریسنٹ ٹیکسٹائل کمپنی میں بطور انڈسٹریل انجینئرنگ مینیجر ذمہ داریاں نبھائیں۔ اگرچہ پریانتھا پاکستان ہی میں مقیم تھے مگر ان کی اہلیہ اور بچے پاکستان سے واپس سری لنکا چلے گئے تھے۔
50 سالہ پریانتھا نے سری لنکا کی ایک یونی ورسٹی سے انجینئرنگ مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی تھی۔
فیملی کا ردعمل:
پریانتھا گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں مقیم تھے مگر وہ اپنی فیملی سے مکمل طور پر رابطے میں تھے۔ ان کی اہلیہ نیروشی دسانیاکے کہتی ہیں کہ میرے شوہر ایک معصوم انسان تھے، یہ کہتے ہوئے نیروشی کی آنکھوں میں آنسوں تھے اور وہ صدمے میں تھیں۔
جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنے شوہر کی ہلاکت کی خبر ٹی وی پر دیکھی۔ ایک لمحہ کو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ٹی وی پر کسی کو اس کے چاہنے والے کی موت کی خبر سنائی دی جا سکتی ہے، جبکہ فیملی کو معلوم ہی نہ ہو، کہ ہنگامے میں ہمارا پیارا ہم سے بچھڑ چکا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ میں نے انٹرنیٹ پر دیکھا میرے شوہر کو انتہائی غیر انسانی سلوک کے ساتھ قتل کیا گیا۔ انہوں نے پاکستان اور سری لنکا کے وزرائے اعظم سے منصفانہ اپیل کی ہے اور مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پریانتھا کمارا کے بھائی کمالا سری شانتا کمارا کہتے ہیں کہ فیکٹری کے مالک کے بعد سے میرے بھائی نے وہاں انتظام سنبھالا ہوا تھا، کمالا سری کی معلومات کے مطابق بھائی نے محض ایک تنظیم کے پوسٹر کو پھاڑا تھا، جو کہ فیکٹری کے اندر لگایا جا رہا تھا، اسی حادثے کی وجہ تلاش کرنے کے لیے ہڑتال کی گئی۔
ملازمین کے ساتھ رویہ:
فیکٹری ملازمین کے ساتھ پریانتھا کمارا کا رویہ کافی اچھا تھا۔ فیکٹری میں کام کرنے والی لڑکیوں کی والدہ کا کہنا تھا کہ یہ شخص بہت اچھے انسان تھے، ان کی بیٹیاں فیکٹری میں گزشتہ 6 سالوں سے کام کر رہی تھیں۔ خواتین کے حوالے سے پریانتھا کافی حساس تھے، انہیں کوئی بھی شکایت ہوتی تھی تو اسے دور کرتے تھے۔
والدہ نے بتایا کہ خواتین کو تنگ کرنے والوں کے ساتھ پریانتھا کا رویہ انتہائی سخت ہوتا تھا۔ جبکہ بیمار ملازمین کو وہ خود گھر تک لے کر جاتے تھے، ان کی مالی مدد کیا کرتے تھے۔