یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں، اس لیے آپ تھوڑی دیر ۔۔ پریانتھا کمارا کے ساتھ آخری وقت میں کیا ہوا تھا؟ انہیں بچانے کی کوشش کرنے والے نے نئے انکشافات کر دیے

image

جمعے کے روز توہین مذہب کے الزام پر سر عام قتل کیے جانے والے سری لنکن مینیجر سے متعلق اگرچہ کئی خبریں سامنے آ چکی ہیں، مگر اب ابھی اصل مجرمان تک نہیں پہنچا جا سکا ہے۔

سری لنکن مینیجر کے قتل نے پورے پاکستان اور پاکستانیوں کو بدنام کیا ہے اور سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ لیکن اس سب صورتحال میں یہ شخص بھی پاکستانی عدنان ملک ہی تھا جو کہ پریانتھا کمارا کو انتہا پسندوں سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، عدنان کی اس کوشش پر وزیر اعظم پاکستان نے انہیں تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا ہے۔

پریانتھا کمارا کو بچانے والا شخص عدنان ملک پریانتھا کی کمپنی میں پروڈکشن مینیجر تھا جبکہ پریانتھا کمارا جنرل مینیجر پروڈکشن تھے، عدنان پریانتھا کمارا کا جونئیر تھا۔ جبکہ ان دونوں کی آپس میں کافی اچھی بات چیت تھی۔

ہجوم کو مشتعل ہوتا دیکھ عدنان نے پریانتھا کو مشورہ دیا تھا کہ وہ فیکٹری کی چھت پر سولر پینلز کے پیچھے چلا جائے، یہاں معاملہ ہم سنبھال لیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ چھت پر چلے جائیں، یہاں معاملہ ٹھنڈا ہوتے ہی آپ کو بلا لیں گے۔ عدنان نے اگرچہ پریانتھا کو بچانے کی بارہا کوششیں کی مگر 30 سے 40 افراد پر مشتمل انتہا پسند گروہ نے اسے بھی دھکیل کر چھت سے پریانتھا کو مارتے ہوئے نیچے لے آئے۔

عدنان اور ایک اور ساتھی پریانتھا کو مارنے والے گروہ سے ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہے تھے کہ اسے مارو مت، حتٰی کہ پریانتھا کی لاش کے ساتھ کیے جانے والے انسانیت سوز واقعے سے بھی روکتے رہے مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ اگر پولیس وقت پر نہ پہنچتی اور ان دونوں افراد کو حفاظتی حصار میں نہ لیتی تو ہجوم انہیں بھی نقصان پہنچا دیتا۔

فیکٹری کے مالک شہباز بھٹی کو بھی ہجوم کی جانب سے زدوکوب کیا گیا جسے پولیس نے بحفاظت ہجوم کے چنگل سے نکال لیا۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھی سری لنکن ہم منصب کو تحقیقات سے متعلق یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ اس واقعہ پر پاکستانی قوم کی طرف سے گہرے دکھ او رنج کا اظہا کیا گیا ہے۔

عمران خان نے پریانتھا کمارا کو بچانے والے شخص ملک عدنان کو بھی سراہا ہے جبکہ عدنان کوتمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US