ہمیں کال کے لیے بھی کئی کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے ۔۔ مقبوضہ کشمیر میں شہری آزاد کشمیر اور پاکستان کی تعریف کرنے لگے، دیکھیے ویڈیو

image

دنیا میں جدید دور کے جدید آلات ہر ملک میں موجود ہیں، چاہے 4 جی ہو یا پھر 5 جی، ہر کوئی ان سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں اب تک شہری قید کی زندگی جی رہے ہیں۔ ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں ایک واضح فرق کے بارے میں بتائیں گے جو ہو سکتا ہے آپ نے پہلے نہیں جانا ہو۔

سرحد کے دونوں طرف بسنے والے کشمیری اگرچہ ایک ہی ہیں مگر سہولیات کے حوالے سے دونوں طرف صورتحال مکمل طور پر مختلف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کسی قسم کا پرچم نہیں لہرایا جا سکتا ہے، بھارت کی سیاسی جماعتوں کو کشمیری مانتے نہیں اور بھارت کا ترنگا اپنے گھروں پر لہرانے پر راضی نہیں ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت سے پہلے تک مقبوضہ کشمیر کا جھنڈا ہوا کرتا تھا جسے بی جے پی نے ختم کر دیا۔ بھارتی ترنگا لہراتا ہے مگر صرف کشمیر میں موجود بھارتی فوج کی چیک پوسٹس پر ہی۔
لیکن دوسری جانب پاکستانی کشمیر میں پاکستان کا جھنڈا ہر دوسرے گھر میں لہراتا ہے، اور پاکستانی جھنڈے کے ساتھ آزاد کشمیر کا جھنڈا بھی لگایا جاتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہ دونوں ایک دوسرے کا بازو ہوں۔
مقبوضہ کشمیر میں گلی کوچوں میں وہ ماحول نہیں ہوتا ہے جو کہ ایک عام علاقے میں ہوتا ہے، وہاں کے لوگ ایک الگ زندگی گزر بسر کر رہے ہیں، جسے وہ خود بھی پسند نہیں کرتے، انہیں کوئی دیکھ رہا ہوتا ہے، ان پر 24 گھنٹے نظر ہوتی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی کشمیری میں لوگ گھر کی چھت پر محفل بھی سجا سکتے ہیں، قریبی چیک پوسٹ پر موجود جوانوں کو کھانا بھی دے دیتے ہیں۔ اپنی خوشیوں میں ہر ایک کو شامل بھی کر سکتے ہیں۔ چونکہ بھارت اور پاکستان کے وقت میں آدھے گھنٹے کا فرق ہوتا ہے تو زیرو لائن پر موبائل فون دونوں ممالک کا وقت بتا رہا ہوتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک اہم مسئلہ انٹرنیٹ کی معطلی ہے جو کہ کشمیریوں سے ان کے بنیادی حقوق حاصل کرنے میں بھی حائل ہے، جسے بھارتی سرکار یہ کہہ کر دفاع کرتی ہے کہ انٹر نیٹ کی مدد سے دہشت گردوں کی معاونت ہوتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں 4 جی، 5 جی سمیت ہر قسم کے انٹر نیٹ نیٹ ورکس کی فراہمی باآسانی دستیاب ہے۔ مقبوضہ وادی کے شہری بھی انٹر نیٹ کے لیے پاکستانی سرحد تک آجاتے ہیں۔
سڑکوں سے متعلق مقبوضہ وادی کے سیارت سبور کہتے ہیں کہ ہماری سڑکیں بہ نسبت پاکستانی کمشیر کے بد تر صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہمیں تعلیم حاصل کرنے میں مشکل ہوتی ہے جب کہ اس طرف تعلیم حاصل کرنا آسان ہے۔
ڈی ڈبلیو نیوز کے صلاح الدین زین کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی نیٹ ورکس ٹیم کے موبائل فون میں کنیکٹ ہی نہیں ہو پا رہے تھے جبکہ پاکستانی نیٹ ورکس باآسانی دستیاب تھے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US