کراچی والوں کے ساتھ ہمیشہ ہی مزاق کیا جاتا ہے، کئی بار کراچی کی عوام کو لاوارث سمجھ کر ان سے کھیلا بھی جاتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام ایک ایسی ہی خبر لے کر آئی ہے جس میں آپ کو بتائیں گے کہ کروز شپ کی آڑ میں کراچی والوں کے جذبات سے کس طرح کھیلا گیا۔
گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا سمیت میڈیا پر ایک خبر چل رہی تھی کہ کراچی کے سی ویو پر ایک کروز شپ لائی جا رہی ہے، جسے تفریح ک ایک ذریعہ بنایا جائے گا۔
دراصل گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پر اٹلی کے 5 اسٹار کروز شپ کو توڑنے کے لیے ایک نجی کمپنی نے اسے خریدا تھا، لیکن جب جہاز کو دیکھا گیا اور اس کی بہتر حالت کو پرکھا گیا۔ جو کوئی شاہی محل سے کم نہ تھی۔
تو اسے کراچی والوں کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کی خبر ٹی وی چینلز پر بھی نشر ہوئی تھی۔
جہاز کو خریدنے والے مالک کی جانب سے بتایا گیا کہ انہوں نے تمام اتھارٹیز اور متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا اور سی ویو پر اس جہاز کو پارک کرنےکے لیے اجازت طلب کی گئی مگر کسی نے رضامندی ظاہر نہ کی۔
کے پی ٹی کی جانب سے بھی شروعات میں یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر پھر انہوں نے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر لیے کہ سی ویو پر جگہ خالی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اب مالک مجبورا کروز شپ کو گڈانی لے جا رہا ہے جہاں اسے توڑا جائے گا۔
اس پوری صورتحال میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ یہ کراچی کی عوام کے لیے تھا اسی لیے سی ویو پر جگہ نہیں تھی۔ ورنہ اگر بحریہ ٹاؤن یا ڈی ایچ اے کے لیے ہوتا تو عمارتیں زمین بوس کر کے، سمندر خالی کرا کر کچھ بھی کر کے جہاز کو لے کر آتے۔