کراچی میں پولیس گردی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، چاہے نقیب اللہ محسود کا قتل ہو یا پھر بیٹ بوسن پر سرفراز کو ناحق قتل کرنا ہو، سیکیورٹی فورسز کے اس عمل نے لوگوں کے گھر کے چراغ بجھا دیے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ ایک ایسے ہی واقعہ سے متعلق بتائیں گے جہاں جعلی مقابلے میں ایک باپ سے اس کا بیٹا چھین لیا گیا۔
دراصل رواں ہفتے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پولیس کی جانب سے کاروائی کی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈکیت اور پولیس کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں ایک ڈکیت کو مار دیا گیا، مگر اصل صورتحال اس وقت واضح ہوئی جب پولیس فائرنگ سے جاںبحق شخص کی شناخت کراچی کے ارسلان کے نام سے ہوئی۔
ارسلان ایک طالب علم تھا اور کم عمر نوجوان لڑکا تھا۔ ارسلان کے والد لیاقت محسود کہتے ہیں کہ میرا بیٹا کوچنگ سے واپس گھر آ رہا تھا جب اس پر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی، ارسلان کو پیٹ میں گولی لگی اور وہ زمین پر گھر گیا تھا جبکہ دوست موٹر سائیکل لیے موقع سے فرار ہو گیا تھا۔
والد نے بتایا کہ دوست سیدھا ہمارے پاس آیا اور بتایا کہ پولیس کی فائرنگ سے ارسلان زخمی ہو گیا ہے۔ گھر والوں پر جیسے آسمان ٹوٹ گیا ہو، نوجوان بیٹے کے اچانک زخمی ہونے کی خبر نے سب کو پریشان کر دیا تھا۔
والد جب بیٹے کی خیریت معلوم کرنے اسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا، سینے پر پاکستانی پرچم لگائے، زبان پر ارسلان کا نام اور چہرے پر بیٹے کے انتقال کی وجہ سے افسردگی نظر آ رہی تھی۔
ارسلان کے قتل میں ملوث دو اہلکاروں اور ایس ایچ او اعظم گوپنگ کے خلاف ایف آئی آر تو درج ہو گئی مگر معاملہ صرف یہیں تک محدود رہا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس ایچ او اعظم گوپنگ کو جیل سے فرار کرا دیا گیا ہے۔ اعظم گوپنگ کی جیل سے تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں، جبکہ انہیں جیل کی سلاخوں سے رات کے اندھیرے میں آزاد کرا دیا گیا۔
یوں اس طرح قانون کے رکھوالے جب قانون کی دھجیاں اڑائیں گے تو ایک نہیں کئی پی ٹی ایم ابھریں گی، نقیب اللہ محسود کو قتل کرنے والے راؤ انوار کو بھی محفوظ راستہ دے دیا گیا جبکہ اب ارسلان محسود کو بھی سیف سائڈ دی جا رہی ہے۔
سندھ حکومت کی نا اہلی واضح طور پر سامنے آئی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھی کوئی خاص ردعمل نہیں سامنے آیا، البتہ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ مقتول کے ورثا کے پاس تعزیت کے لیے آئے۔