دنیا کی پہلی اذان دینے والے حضرت بلال ؓ کون تھے جنھیں اسلام قبول کرنے کے بعد زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی؟

image

حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان اولین لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے شروع میں اسلام قبول کیا اور جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔ جن پر کفارِ مکہ نے مظالم ڈھائے تاکہ وہ تنگ آکر اسلام سے پھر جائیں لیکن ان کی زبان صرف احد احد کرنا جانتی تھی۔

آپ مکہ میں پیدا ہوئے جبکہ بنیادی طور پر آپ کا تعلق ابیسینیا سے تھا جو آج کل ایتھوپیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے تین برس بعد پیدا ہوئے اور آپ کا پورا نام بلال بن ابو رباح ہے۔ آپ کی والدہ کا نام روایات میں ہِمامہ آیا ہے۔ صحابہ اکرام اور روایات کے مطابق حضرت بلال کا رنگ سیاہ تھا۔ قد اونچا اور دبلے پتلے تھے۔ جب صحابہ ان کی خصوصیات بتاتے تو کہتے تھے کہ حضرت بلال ایسے انسان تھے جنھوں نے سب کچھ اپنی محنت اور جدوجہد سے حاصل کیا اور یہ سب کچھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم سے محبت کا نتیجہ تھا۔

حضرت بلال ؓ کو ملنے والے القابات

آپ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے حضرت بلال کو دو لقب دیے گئے ایک الحازن جس سے مراد حضرت بلال کا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کا زاتی خزانچی ہونا جبکہ دوسرا لقب الموذن تھا جس کا مطلب تھا آپ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے لئے اذان دینے والا۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو دنیا کے تمام موذنوں کا سردار کہا تو دنیا میں قیامت تک جہاں بھی اذان دی جائے گی حضرت بلال ان تمام موذنوں کے سردار رہیں گے۔

جب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی علالت کا وقت آیا تو حضرت بلال اتنے غمزدہ ہوتے اور کہتے کہ کیا ہی دکھ اور غم کہ دن ہیں اگر یہی دن دیکھنا تھا تو میری ماں نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا یا کاش میں یہ دن دیکھنے سے پہلے مر گیا ہوتا۔ پھر ایسا بھی وقت آیا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ازان دیتے ہوئے شدت غم سے بیہوش ہوگئے۔

حضرت بلال ؓ نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

آپ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت جب ان کا جسم مبارک وہیں موجود تھا حضرت بلال نے ازان دینے کی کوشش کی لیکن جب اَشْہَدُ اَن لَّا إِلٰہَ اِلَّا ﷲُ پر پہنچے اور آپ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم گھر سے نہ نکلے تو حضرت بلال کو روتے ہوئے ہچکی لگ گئی۔ حضرت بلال اتنا روئے کہ تمام صحابہ اکرام روپڑے اگلے تین روز تک آپ نے ازان دینے کی کوشش کی لیکن اَشْہَدُ اَن لَّا إِلٰہَ اِلَّا ﷲُ پر پہنچ کر ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے تھے۔ اس کے بعد حضرت بلال نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے بغیر مدینے کی گلیوں کو دیکھ ہی نہیں سکتے تھے۔

حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسین ؓ کے کہنے پر دوبارہ اذان دی

لیکن جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال کو پیغام بھیجا کہ بلال آپ نے تو ہمارے پاس آنا ہی چھوڑ دیا تو حضرت بلال نے اسی وقت مدینہ منورہ جانے کا ارادہ کیا اور حضور اکرم کے روزہ پر حاضر ہوئے۔ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین نے حضرت بلال کو دیکھا تو ازان دینے کی فرمائش کی۔ حضرت بلال نے ٹالنے چاہا لیکن حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسوں کی فرمائش تھی اس لئے حضرت بلال نے ازان شروع کی تو پورے شہر میں کہرام مچ گیا۔ لوگوں نے کہا کیا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے ہیں اور اتنا روئے کہ داڑھیاں تر ہوگئیں۔ کہتے ہیں کہ مدینہ کی فضا اس سے زیادہ سوگوار پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US