بھارت میں جعلی ڈگریوں اور H-1B ویزا فراڈ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب

image

بھارت میں جعلی تعلیمی اسناد اور امریکی H-1B ویزا کے حصول سے جڑے ایک بڑے منظم فراڈ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی جریدے دی کمیون کی رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک پورے ملک میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے سرگرم رہا اور 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیرالا پولیس نے کارروائی کے دوران ایک منظم گروہ کو گرفتار کیا، جس کے قبضے سے 22 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد جعلی سرٹیفکیٹس برآمد ہوئے۔ چھاپے کے وقت مرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی اپنے گھر میں جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا۔

بھارتی جریدے کے مطابق اس فراڈ نیٹ ورک نے اب تک 100 کروڑ روپے سے زائد کا غیر قانونی کاروبار کیا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 28 مختلف یونیورسٹیوں کی جعلی مہریں، مارک شیٹس اور دیگر حساس دستاویزات بھی برآمد کیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ اندرون و بیرون ملک ملازمتوں کے حصول کے لیے میڈیکل، نرسنگ اور انجینئرنگ سمیت 100 سے زائد اقسام کی جعلی ڈگریاں فراہم کرتا رہا۔ بھارتی شہری امریکی H-1B ویزا حاصل کرنے کے لیے بھاری رشوت بھی دیتے رہے۔

بھارتی پولیس کے مطابق امریکی سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیز کی ڈائریکٹر جیسیکا وان نے بھارت میں ویزا جاری کرنے کے نظام کو ایک بڑا فراڈ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا بھیجنے کے لیے بھارت میں 36 ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کی گئیں، جبکہ یومیہ جاری ہونے والے H-1B ویزوں میں 80 سے 90 فیصد مکمل طور پر جعلی ہوتے ہیں۔

ڈائریکٹر سی آئی ایس کے مطابق بیشتر درخواست گزار صرف ڈگری رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر عملی طور پر انہیں متعلقہ شعبے کا کوئی علم نہیں ہوتا۔

ادھر بھارتی نژاد امریکی سفارت کار مہوش صدیقی نے بھی ریاست چنئی میں واقع بھارتی قونصل خانے کو دنیا کا سب سے بڑا H-1B ویزا فراڈ مرکز قرار دیا ہے، جس سے بھارتی تعلیمی اور امیگریشن نظام پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US