اب مردہ جلاتے نہیں بلکہ دفنا دیتے ہیں ۔۔ پاکستان میں رہنے والی ہندو برادری کے کچھ خاندانوں نے اپنے مردے جلانے کے بجائے دفنانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

image

“دادا نے کہا تھا کہ مرجاؤں تو دفنا دینا۔ دادا کے بعد ان کے باقی بھائیوں اور دادی کو بھی دفنایا گیا اور پھر یہ خاندان کا رواج بن گیا کہ لوگ مر جائیں تو رشتے داروں کی قبر کے پاس ہی دفنا دیے جائیں“

یہ الفاظ ہیں آکاش لال کے جن کا تعلق پشاور سے ہے۔ آکاش کہتے ہیں کہ ان کے والد رام لال ہندو کمیونٹی کے صدر ہونے کے علاوہ ایک کٹر مذہبی شخص تھے لیکن مرتے ہوئے انھوں نے ہندو برادری کی روایات کے برعکس جلانے کے بجائے اپنے جسم کو دفن کرنے کا حکم دیا تھا۔ آکاش کے مطابق ایسا انھوں نے اس لیے کیا تاکہ اپنی خاندانی رواج کو جاری رکھ سکیں۔

مسلمانوں جیسا رہن سہن اپنانا چاہتے تھے

دراصل رام لال کے والد جو تقسیمِ ہندوستان کے بعد پشاور میں ہی رہنے لگے تھے انھیں لگا کہ نئے بننے والے پاکستان میں وہ اور باقی ہندو اقلیت کے طور پر موجود ہیں اس لئے انھیں اب محفوظ رہنے کے لئے مسلمانوں جیسا رہن سہن اپنانا ہوگا۔ اسی سوچ کے تحت آکاش کے دادا نے اپنے جسم کو دفن کرنے کی ہدایت کی اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔

سائبر کرائم

ہندو برادری پاکستان میں محفوظ ہے

آکاش کی طرح اویناش بھی ایک ایسے ہی ہندو خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جہاں مرنے کے بعد میت کو دفن کیا جاتا ہے۔ اویناش کہتے ہیں ان کا خاندان بھی مسلمانوں کی اکثریت کے خیال سے خوفزدہ ہوگیا تھا لیکن بعد میں احساس ہوا کہ ان کا خوف بے جا تھا اور پاکستان بننے کے بعد ہندوؤں کو ملک میں کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا اس لئے وہ خود مرنے کے بعد ہندو روایت کے مطابق اپنا انتم سنسکار کروانا پسند کریں گے۔

الگ شمشان گھاٹ اور قبرستان تعمیر کیے جائیں گے

خیبر پختون خواہ اسمبلی کے ہندو رکن روی کمار کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں پشاور کے علاوہ باقی شہروں میں بھی ہندوؤں کی بڑی آبادی موجود ہے جس کے باعث ان کے لئے شمشان گھاٹ اور علیحدہ قبرستان بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US