میں نے کھانا منگوایا تو ڈلیوری دینے کے لئے لڑکی آئی۔۔ جانیے خواتین میں موٹر سائیکل رائیڈر بننے کا رجحان کیوں بڑھتا جارہا ہے اور اس کے ذریعے وہ کتنے پیسے کما سکتی ہیں؟

image

“لوگوں کے پاس کھانا لے کر پہنچتی ہوں تو پہلے حیران ہوتے ہیں اور پھر خوش ہوکر دعائیں دیتے ہیں“

یہ کہنا ہے کہ رباب جمالی کا جو فوڈ پانڈہ کی پہلی خاتون ڈلیوری بائیک رائیڈر ہیں۔ موٹر سائیکل چلانا ایک ایسا کام ہے جسے ہمارے معاشرے میں مردوں کے لئے ہی مخصوص سمجھاجاتا تھا لیکن اب خواتین بائیک رائیڈرز بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں سے کچھ رباب کی طرح موٹر سائیکل کے زریعے اپنا روزگار بھی کما رہی ہیں۔ خواتین کے لئے موٹر سائیک کے زریعے فوڈ ڈلیوری کرنا کیسا پیشہ ہے اور اس میں انھیں کن چیلنجز کا سامنا ہے؟ ان سوالوں کے جواب ہم جانیں گے رباب جمالی سے۔

جس دن اپلائی کیا اسی دن فون آگیا

ہم نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے رباب نے بتایا کہ انھوں نے فوڈ پانڈا کا اشتہار دیکھا تھا جس میں انھیں کھانا لوگوں تک پہنچانے والوں کے لئے موٹر سائیکل رائیڈرز کی ضرورت تھی چونکہ اشتہار میں جنس کے بارے میں نہیں لکھا تھا اس لئے انھوں نے فوراً اپلائی کردیا اور فوڈ پانڈا والوں نے بھی انھیں اسی دن فون کرکے منتخب کرلیا جس سے ان کے اس سفر کا آغاز ہوا۔

گھر والے سپورٹ کرتے ہیں

رباب کہتی ہیں کہ ان کے گھر والے اور دوست انھیں بہت سپورٹ کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوگ جن کو کھانا پہنچایا جاتا ہے وہ بھی انھیں دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ خوش بھی ہوتے ہیں۔ آج تک انھیں خاتون ہونے کی وجہ سے اس پیشے میں کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا اس لئے وہ اپنے کام سے مطمئن ہیں۔

لڑکیاں اپنے خواب پورے کریں

رباب کہتی ہیں انھیں موٹرسائیکل چلانے کا شوق تھا اس لئے وہ اس شعبے میں آئیں اور لڑکیوں کو ہر وہ کام کرنا چاہئیے جس سے ان کے خواب پورے ہوں۔ کوئی وجہ نہیں کہ انسان اگر خود مثبت سوچ اور رویہ اپنائے تو آس پاس کے لوگوں کا رویہ تبدیل نہ ہو۔

موٹر سائیکل کے زریعے روزگار کمانے والی لڑکیاں

صرف رباب ہی نہیں بلکہ اب کئی ایسی لڑکیاں ہیں جو مختلف چیزیں ڈلیور کرنے کے لئے موٹرسائیکل کے زریعے کام کررہی ہیں اور حلال روزی کما رہی ہیں۔ کچھ دن پہلے سوش میڈیا پر ایک تصویر بھی وائرل ہوئی جس میں آمنہ طارق نامی ایک خاتون اپنا تجربہ تا رہی تھیں کہ ایک دن انھوں نے کھانا نگوایا تو ڈلیوری دینے ایک لڑکی آئی جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں جس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ماسک اور گلوز پہنا ہوا تھا اور بہترین طریقے سے بائیک چلا رہی تھی۔ آمنہ دعا کرتی ہیں کہ یہ کام کرنے والی تمام لڑکیاں محفوظ رہیں۔

اپلائی کیسے کریں؟

موٹر سائیکل کے زریعے سامان مطلوبہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے مختلف کمپنیز اکثر یہ شرط رکھتی ہیں کہ لڑکے یا لڑکیوں کے پاس ذاتی موٹرسائیکل موجود ہو۔ فوڈ پانڈا کے علاوہ ائیر لفٹ اور مزید کمپنیز بھی ایسی جابز آفر کررہی ہیں اور ان میں جنس کی قید نہیں کوتی۔ اپلائی کرنے کے لئے مطلوبہ کمپنی کی ویب سائٹ پر دیا ای میل ایڈریس استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان جابز میں اندازً تنخواہ 35 سے 50 ہزار تک ہوسکتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US