پاکستان کے ہر گھر میں یہ معروف استری لازمی موجود ہوتی ہے۔ پہلے شادیوں میں والدین جہیز میں اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ کوالٹی کی یہ استری دیا کرتے تھے تاکہ وہ لمبے عرصے تک چلیں۔ اس استری نے سالہا سال ساتھ دینے کا وعدہ نبھایا اور اب ہر گھر میں امی کے جہیز کی یہ استری لازمی دکھائی دیتی ہے۔ اب تو لوگ بازاروں میں یہ خاص کوالٹی والی استری ڈھونڈھنے بھی جائیں تو معیاری اور پائیدار نہیں ملتی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اب مارکیٹ میں نئی ٹیکنالوجی کی استریاں آ چکی ہیں۔ لیکن ماؤں کو اپنی بیٹیوں کے جہیز کے لیے بھی ایسی معیاری استری درکار ہوتی ہے۔
استری کے علاوہ چاکلیٹ اور ٹافیوں کے ٹن کے ڈبے اور سوہن حلوے کے ڈبوں میں ہر گھر میں خواتین سوئی دھاگہ اور بٹن رکھتی نظر آتی ہیں۔ یہ صرف کسی ایک گھر کا حال نہیں ہے بلکہ ہر گھر میں اسی طرح سے ان ڈبوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
پہلے وقتوں میں نانا نانی یا دادا دادی وغیرہ شوق سے اسٹیل کے گلاس اور کٹورے لایا کرتے تھے اور اس میں پانی اور مختلف مشروبات پیا کرتے تھے، اب بھی بہت سے گھروں میں یہ لازمی موجود ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ سخت گرمی میں جب تک اسٹیل کے کٹورے یا گلاس میں پانی نہیں پیا جائے تب تک پیاس ہی نہیں بجھتی۔
آج بھی خواتین تبت کے پراڈکٹس کا خاص استعمال کرتی ہیں، چاہے وہ تبت کریم ہو یا پاؤڈر اور اب تو سردیاں آنے والی ہیں، تبت سنو کریم کی مانگ میں پھر سے اضافہ ہونے والا ہے۔
پہلے دادیوں کے پاس اس قسم کے پاندان ہوتے تھے اور دعوتوں پر سارا خاندان بچے سے بڑے تک سب ہی دادی کو سلام کرکے پان دان سے پان کھایا کرتے تھے جوکہ ایک پُرمسرت لمحہ ہوتا تھا مگر آج یہ روایت شاید ماند ہو کر رہ گئی ہے۔
پہلے گھروں میں ایسی سُرمہ دانی ہوتی تھی اور مائیں اسی سے سرمہ لگاتی تھیں، اپنے بچوں کو۔ نہلانے دھلانے کے بعد بچوں کو کہیں بھی جانے سے پہلے دادی بھی کالا ٹیکہ لگاتی تھیں تو یہی پیتل کی سُرمہ دانی نکال کر لگاتی تھیں جس سے آنکھوں میں خوبصورت جھلکتی تھی۔
گھر میں جب بھی آئس کریم آتی ہے تو بچے مزے سے فوراً ہی کھا لیتے ہیں۔ لیکن کھانے کے بعد ماؤں کی گہری نظر اس ڈبے پر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ ڈبے اچھے اور مضبوط ہوتے ہیں۔ اس لیے اب یہ فریزر کی زینت بنتے ہیں۔ ان میں بچا ہوا کھانا رکھا جاتا ہے یا پھر برف جمائی جاتی ہے۔