آپ نے زندگی میں ایسے کئی کام روزانہ کی بنیا پر کیے ہوں گے جو آپ کو یاد بھی ہوں گے مگر ان کا مطلب اور مقصد آج تک کسی نے نہیں سمجھایا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پاکستانی ڈرامے صنف آہن کا ایک سین کافی وائرل ہے جس میں میجر اسامہ (شہریار منور) ایل سیز کو قومی ترانے کا اصل مطلب سمجھا رہے ہیں۔ جس وقت میجر اسامہ یہ مطلب سمجھاتے ہیں، اس وقت ان کے تاثرات، آنکھیں، اور باڈی لینگویج ان کی آواز سے زیادہ پُر اثر معلوم ہو رہی تھی۔
پاک سر زمین شاد باد ، کشور حسین شادباد
تو نشانِ عزمِ عالی شان ، ارضِ پاکستان
مرکزِ یقین شادباد
اے مقدس زمین ، تو ہمیشہ خوشحال رہے۔
ہمیشہ بستی رہے ، میری خوبصورت زمین !
تو بلند ہمتی کا نشان ہے میری پاک سر زمین۔
ایمان کا یہ مرکز ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
پاک سر زمین کا نظام قوتِ اخوتِ عوام
قوم ملک سلطنت پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزلِ مراد
اس ملک کا نظام یہاں پر رہنے والوں کی آپس کی محبت اور بھائی چارے اور اتحاد سے چلتا ہے۔
یہ قوم ، یہ ملک اور یہ سلطنت ہمیشہ زندہ رہے ، ہمیشہ روشن رہے۔
اور اپنے ہر مقصد کو یوں ہی خوشحالی کے راستے پر چلتے ہوئے حاصل کرے۔
پرچمِ ستارہ و ہلال رہبرِ ترقی و کمال
ترجمانِ ماضی شانِ حال جانِ استقبال
سایۂ خدائے ذوالجلال
یہ چاند اور ستارے والا پرچم ، ہماری ترقی اور عروج کا رہنما ہے۔
یہ ہمیں ہمارے شاندار ماضی کی یاد دلاتا ہے ، ہمارے آج کی عظمت کو بیان کرتا ہے ، اور یہی ہمارے آنے والے کل کی قوت بنے گا۔
یہ ترانہ ہم میں سے ہر ایک شخص نے پڑھا ہوگا مگر بامعنی بہت کم لوگ جانتے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس ڈرامے کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
اس ترانے کے مفہوم میں ایک بہت اہم بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا جو یہ کہ ایمان کا یہ مرکز ہمیشہ بلند رہے۔ یہ ایمان صرف دینی طور پر ہی نہیں بلکہ انسانیت اور فلاح و بہبود کا ایمان ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ انسانیت کا خیال فلاح و بہبو کا حصہ ہے۔
اسی طرح ایک اور بات کی طرف اشارہ کیا گیا وہ یہ کہ اس ملک کا نظام یہاں کے لوگ بھائی چارے، ملنساری، متحد ہو کر اور محبت سے چلاتے ہیں یعنی رنگ و نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر لوگ ایک ہی پرچم تلے اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
جبکہ ایک اور اہم بات وہ یہ کہ یہ شاندار ماضی کو بھولنے نہیں دیتا ہے، یہ شاندار ماضی پاکستان کی تاریخ کو واضح کرتا ہے اسی طرح ہمارے آنے والے کل کی قوت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
آج کے دور میں ایسے بہت کم ڈرامے ہیں جن میں آگاہی اور معلومات فراہم کی جاتی ہو، صنف آہن میں بھی قومی پرچم سے متعلق یہ معلومات سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ہمیں اس طرح قومی ترانے کا مطلب آج تک سمجھایا ہی نہیں گیا اسی لیے ہم میں سے بیشتر لوگ ترانے کے معنی اور مفہوم سے لاعلم ہیں۔ آج کل کے تعلیمی ادارے سوائے پیسا کمانے کے اور کاروبار کرنے کے اور کچھ نہیں کر رہے ہیں۔