پاکستان سے کسی بھی دوسرے ملک جانے سے قبل کورونا ٹیسٹ اور پی سی آر کروانا لازمی ہے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ مسافر کو کورونا وائرس
ہے یا نہیں۔
اسی حوالے سے معروف اینکر کرن ناز اپنی حالیہ ویڈیو میں کراچی ایئرپورٹ پر کی جانے والی کرپشن سے متعلق بتاتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ:
''
کچھ وقت قبل میں اور میرے شوہر ہم ملک سے باہر گئے تو جانے سے قبل ہم نے کووڈ ٹیسٹ کروایا۔ وہ بھی اس لیبارٹری سے جہاں کی رپورٹ کو ایئرپورٹ انتظامیہ مستند سمجھتی ہے۔ میں نے اور میرے شوہر نے 5، 5 ہزار روپے کا ٹیسٹ کروایا۔ لیکن جب ہم واپس آئے اور واپس آنے کے بعد ایئرپورٹ پر کورونا وائرس ٹیسٹ ہونا تھا جوکہ پاکستان حکومت کی جانب سے فری رکھا گیا ہے یعنی جب آپ ملک سے باہر جائیں گے تو آپ کو مستند لیبارٹری سے اپنا ٹیسٹ کروائیں گے۔ لیکن جب ملک میں واپس آئیں گے تو فوری طور پر ایئرپورٹ پر آپ کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو فری ہوتا ہے۔ اسی طرح میں جب ملک واپس آئی تو دوسرے ملک میں جو بھی میرا کورونا ٹیسٹ کیا گیا تھا اسی کی بنیاد پر مجھے کلیئر قرار دے دیا گیا اور میرا وہ ٹیسٹ نہیں کیا گیا جو فری میں ہونا تھا۔
''
کووڈ ٹیسٹ اور عملے سے متعلق بات کرتے ہوئے کرن ناز نے مذید یہ بھی کہا کہ:''
ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے یہ دوہرا معیار کیوں رکھا جا رہا ہے۔ 5، 6، 7، 8 ہزار روہے کے ٹیسٹ کیوں کروائے جا رہے ہیں؟ اگر ایک سہولت حکومت کی جانب سے موجود ہے تو اس کو استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا کیوں عوام کی جیبیں خالی کی جا رہی ہیں۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ایئرپورٹ سٹاف کو لگام ڈالیں اور عوام کو لوٹنے سے بچائیں۔ ملک سے جانے والوں کے لیے خطرہ لیکن ملک میں جو آرہے ہیں ان کا ٹیسٹ نہیں کر رہے کیونکہ وہ فری ہے۔ یہ کیسا نظام ہے۔
''