کراچی میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، 4 ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد برآمد

image

سیکیورٹی اداروں نے کراچی میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ بلدیہ رئیس گوٹھ میں خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی کے دوران 4 ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد برآمد کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 60 ڈرم، 5 گیس سلینڈرز اور ایک منی ٹرک کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی زیرِحراست دہشت گردوں کی نشاندہی پر کی گئی۔

کراچی سینٹرل پولیس آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مصدقہ اطلاعات پر انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ آپریشن کیا گیا۔ کئی دنوں کی محنت کے بعد پہلے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، جس کی تفتیش پر گزشتہ رات مزید دو دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق دہشت گرد منی ٹرک میں دھماکا خیز مواد بھر کر آئی آئی چندریگر روڈ پر بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم بروقت کارروائی سے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

گرفتار دہشت گردوں کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں کا منصوبہ کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔ دھماکا خیز مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق برآمد شدہ بارودی مواد کو بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی جبکہ تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کامیاب کارروائی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں مجید بریگیڈ کے کارندوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جس سے ایک بڑے سانحے کو روکا گیا۔

حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد نیٹ ورک کے تانے بانے بشیر زیب، کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سے ملتے ہیں، جبکہ بھارتی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتی رہی ہیں۔

سیکیورٹی امور کے ماہر طلال کا کہنا ہے کہ طالبان کے دہشت گرد نیٹ ورک کی ساخت کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، اس کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ اور بشیر زیب کے نیٹ ورک سے مشابہت رکھتی ہے۔

طلال کے مطابق ان تنظیموں میں خفیہ سیلز، محدود رابطے، اور مخصوص ٹارگٹس پر حملوں کی حکمتِ عملی اپنائی جاتی ہے، جس سے نیٹ ورک کو ٹریس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی ماڈل حالیہ دہشت گرد کارروائیوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان نیٹ ورکس کے پیچھے منظم منصوبہ بندی اور بیرونی سہولت کاری کے شواہد موجود ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے جامع اور مربوط سیکیورٹی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی سے کراچی کو ایک بڑے خطرے سے محفوظ بنا لیا گیا ہے، جبکہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US