سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز دیکھی ہوں گی جس میں مختلف گھرانوں کی ایسی کہانیاں ہوتی ہے جس پر انسان یقین بھی نہیں کر سکتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
شیخوپورہ کے شیخ محمد افضل نے ایک ایسا کام کیا ہے جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
شیخ محمد افضل نے اپنی جائیداد کو اولاد کے بجائے یتیم بچوں کے نام کر دیا ہے۔ بزرگ والد نے اپنی 17 ایکڑ کی اراضی آغوش فاؤنڈیشن کے نام کر دی ہے، جس عمر میں شیخ محمد افضل کو اپنے پوتوں پوتیوں کے ساتھ بیٹھ کر وقت بتانا تھا اس عمر میں وہ یتیم بچوں کو پیار دے رہے ہیں۔
90 سالہ شیخ محمد افضل کے رشتہ دار بیرون ملک مقیم ہیں جبکہ داماد نے بھی جائیداد میں حصہ نہ دینے پر گھر سے نکال دیا۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق شیخ محمد افضل 8 سال اولڈ ایج ہوم میں ہی رہے جس کی وجہ سے انہیں یتیم بچوں کے دکھ کا ایسا احساس ہوا کہ اپنی جائیداد ہی ان یتیموں کے نام کردی اور اسے اسکول اور ہاسٹل بنا دیا۔
شیخ محمد افضل کا کہنا تھا کہ میں نے بڑا مشکل وقت گزارا ہے، یہ بچے بھی مشکل میں یہاں آئے ہیں۔ جبکہ یتیم بچے بھی شیخ محمد افضل سے محبت کرتے ہیں، بچے انہیں دادا ابو کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ واقعہ 2019 کا ہے مگر سوشل میڈیا پر اب بھی وائرل ہے۔