بابا نے کہا تھا میری قبر پر قرآنی آیت نہ لکھوانا ۔۔ اپنے پیاروں کے دنیا سے جانے کے بعد لوگ قبروں پر کتبے کیوں بنواتے ہیں؟

image

ہاتھ پکڑ کر ساتھ چلنے کا وعدہ کیا لیکن سانسوں نے مہلت نہ دی، وقتِ مرگ آیا اور ہوا قبرستان لے چلی، جو نظر اُٹھا کر دیکھا تو دور دور تک مٹی سے ڈھکی قبریں نظر آئیں۔ عجب اتفاق ہے جو سکون سارے جہاں میں ڈھونڈا وہ اس شہرِ خموشاں میں پایا جہاں نہ کوئی لڑنے والا ہے، نہ کوئی بات کرنے والا، ہر قبر ایک ہی سبق دیتی ہے پریشان نہ ہو ہمیں دیکھ کر اے زندہ شخص، تیرا مکاں بھی یہیں ہے پگلے، حساب کتاب بھی یہیں ہے۔ جس قبر کو دیکھ کر تجھے ڈر لگتا ہے، کل تو

تجھے بھی اسی قبر میں دفن ہونا ہے۔ ٹھکانہ قبر ہے تیرا عبادت کچھ تو کر غافل, کہاوت ہے کہ خالی ہاتھ گھر جایا نہیں کرتے!

انسان ایک ایسا غافل منصوبہ ساز ہے کہ وہ اپنی ساری پلاننگ میں کبھی اپنی موت کو شامل نہیں کرتا جبکہ موت تو برحق ہے۔ '' كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ ''

زندگی سے موت کا سفر آسان نہیں۔ جب کوئی اپنا پیارا مر جائے تو دنیا میں اس کی کچھ یادیں اور ایک قبر باقی رہ جاتی ہیں۔ قبر پر کوئی جائے یا نہ جائے، لوگ مرنے والے کی یاد میں کچھ دل کی باتیں ان کی قبروں پر تختیوں کی صورت میں لکھوا دیتے ہیں۔ کوئی اپنی محبت بھرے جذبات لکھواتا تو کوئی احتراماً چند اشعار لکھواتا۔ کوئی مرحوم کے اخلاق کی تعریف کردیتا ہے تو کوئی ثواب کی نیت سے مغفرت کی دعائیں لکھوا دیتا ہے۔ کچھ ایسی بھی قبریں دکھائی دیتی ہیں جن میں مرحوم کی تاریخِ پیدائش اور وفات درج ہوتی ہے۔ قبر کی یہ تختیاں لکھنا بھی ایک مشکل کام ہے۔ ہر کتبہ کسی ٹوٹے دل کی داستاں بیاں کرتا ہے۔

جاگنا ہے جاگ لے افلاک کے سائے تلے حشر تک سوتا رہے گا خاک کے سائے تلے

قبرستان سے گزر ہو تو ان کتبوں پر ہر شخص کی نظر پڑتی ہے۔ کہا جاتا ہے یہ کتبے لکھنے والے بھی بڑا کلیجہ رکھتے ہیں جو کسی کی ماں اور کسی کے باپ کی یاد میں ان کے جذبات تحریر کرتے ہیں۔ کتبے دراصل سنگِ مرمر کے پتھر پر لکھے جاتے ہیں جو زندہ انسان مردوں کے لیے تیارکرتا ہے۔ یہ بے جان کتبے کسی بھی انسان کو حیات بخش دیتے ہیں۔ یہ فن صدیوں سے چلتا آ رہا ہے۔ مغل بادشاہ ہو یا کوئی عام انسان اس کی قبر پر کتبہ ضرور تحریر ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ کتبے دنیا بھر میں آئرلینڈ کی قبروں پر پائے جاتے ہیں۔

بہرحال شہرِ خموشاں کا ماحول اس قدر خاموش ہے کہ کوئی کسی سے بات تو نہیں کرتا لیکن بے جان کتبوں پر لکھی گئی جان دار تحریر ہر مسافر سے خود بخود بات کرتی ہے، ایک ربط پیدا کرتی ہے۔

قبر میں دفن لوگ ہمارے اپنے پیارے سگے رشتے ہیں جن سے ملنے کا ہمارے پاس شاید روزمرہ زندگی میں وقت کم ہے، اسی وجہ سے ہم نے کچھ مخصوص دن بنا لیے ہیں۔ کوئی رمضان سے قبل قبرستان کا رخ کرتا ہے تو کوئی شبِ برات پر قبرستان جا کر قبر کی صفائی کرتا ہے، اس پر پھول ڈالتاہے تو کوئی اگر بتیاں جلا دیتا ہے۔ لیکن مزہ تو تب ہے جب ہر مشکل وقت میں انسان اس طرف رُخ کرے اور اپنی حیثیت کو تسلیم کرے کہ لوٹ کر دنیا سے اسی قبر میں جانا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US