سوشل میڈیا پر گزشتہ دنوں آسٹریلوی یوٹیوبر لیوک ڈیمنٹ کے ساتھ ایک ایسا فراڈ ہوا تھا جس میں ساحل سمندر پر موجود گھوڑے والے نے یوٹیوبر سے زیادہ پیسے لینے کی کوشش کی۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک اور ایسے ہی واقعہ سے متعلق بتائیں گے۔
اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیل فلپ ان دنوں پاکستان کی سیر کو آئے ہیں وہ یہاں مختلف مقامات کی ویڈیوز اپلوڈ کر رہے ہیں اپنا تجربہ اور خوش گوار لمحات کو اپنے پیج پر اپلوڈ کر رہے ہیں۔
ساحل سمندر پر یوٹیوبر کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے جس نے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ دراصل ڈیل ساحل سمندر پر موجود تھے تو اسی وقت گھوڑے والے آ گئے اور ڈیل کو گھوڑے کی سواری پر اصرار کرتے رہے۔
اس حد تک اصرار کیا کہ ڈیل خود بھی پریشان ہو گئے اور مجبورا راضی ہو گئے۔ بہر حال ڈیل گھوڑے کی سواری پر راضی ہو گئے مگر جب گھوڑے والے نے رسی دوسرے کو دی تو اس وقت ڈیل کو محسوس ہوا کہ اب خطرہ بڑھ رہا ہے اس اجنبی بندے کو گھوڑے کی لگام کیوں دی۔
اگرچہ وہ گھوڑے والا ہی تھا اور ڈیل کا تشویش کرنا بجا تھا، مگر جب گھوڑے والا بنا سنے ڈیل کو سیر کرا رہا تھا اور یوٹیوبر کے کہنے کے باوجود بھی نہیں رکا تو ڈیل کی تشویش مزید بڑھ گئی۔
جب اترنے کی باری آئی اور ڈیل نے پوچھا کہ کتنے پیسے ہوئے تو 200 سے 300 روپے والے چکر کے گھوڑے والا 5 ہزار روپے مانگ رہا تھا۔ مطلب کچھ بھی، یہ گھوڑے والا تو گزشتہ بار جو واقعہ ہوا تھا اس سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔
ڈیل فلپ کا کہنا تھا کہ 99 فیصد لوگ اچھے ہیں مگر جب کبھی بھی کراچی کے ساحل سمندر پر آئیں تو کسی مقامی دوست کے ساتھ آئیں ورنہ یہ لوگ آپ کو ٹھگ سکتے ہیں۔