شبِ برات کی رات لوگ اپنے مرحوم رشتے داروں اور دوستوں کی قبروں پر جاتے ہیں، ان کی قبر کی صاف صفائی کرتے ہیں۔ کچھ پھول ڈالتے ہیں تو کچھ لوگ پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں، کچھ اگربتیاں جلاتے ہیں اور کچھ موم بتیاں جلا کر چراغاں کرتے ہیں۔ وہیں کچھ لوگ قبرستان میں موجود گورکھن اور دیگر عملے کو کھانا وغیرہ بھی کھلا دیتے ہیں۔ کچھ لوگ پرندوں کا کھانا بھی قبروں پر ڈال دیتے ہیں تاکہ کوئی پرندہ جب آئے تو وہ دانہ پانی ہی پی جائے یہ سب تو وہ باتیں جو سالہا سالوں سے چلی آ رہی ہیں لیکن آج ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں نے قبرستان میں ہی محفلِ قوالی رکھ لی اور قوال بھی قبروں کے درمیان بیٹھ کر ڈف بجا بجا کر قوالی پڑھ رہے ہیں، لوگ بھی اطراف میں بیٹھ کر ان کو سن رہے ہیں۔
کچھ لوگ تو قبروں کے کناروں پر بیٹھے ہوئے قوالی سن رہے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ قبرستان میں ہی قوالی نائٹ رکھ لی گئی ہو۔ صرف مرد حضرات یا لڑکے نہیں بلکہ خواتین اور لڑکیاں بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں اور بیٹھی سن رہی ہیں۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنقید کی نظر ہو رہی ہے۔ اس پر لوگ خوب بھڑک رہے ہیں کہ شبِ برات کی رات اتنی بابرکت ہوتی ہے اس رات پر یہ قوالی سننا اور سنانا کون سا نیا رواج بنا دیا ہے۔ یہ کس حد تک نازیباں ہے اس کے حوالے سے علماء ہی بہتر بتا سکتے ہیں لیکن یہ اخلاقیات کے دائرے سے دور پرے ہے۔