سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر دیکھی ہوں گی جس میں سیاست دانوں سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو صحافی سلیم صافی کے انٹرویو کے بارے میں بتائیں گے۔
صحافی محسن بیگ نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ نہ میرے خلاف کوئی کیس تھا اور نہ ہی کوئی شکایت تھی۔ جبکہ یہ پوری پلیننگ وزیر اعظم ہاؤس کے گھر پر ہوئی تھی، جس میں اس بات کا فیصلہ ہوا تھا کہ مجھے گھر سے اٹھا لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس دن گھر پر حملہ ہوا اس دن نہ کوئی ایف آئی آر تھی اور نہ ہی وارنٹ تھا۔ صحافی نے انکشاف کیا کہ ان کا پلان مجھے مسنگ پرسنز کی لسٹ میں ڈالنا تھا یا پھر میرا قتل کرنا تھا۔
جس طرح میرے گھر وہ لوگ داخل ہوئے، ایف آئی اے اس طرح کسی کے گھر داخل نہیں ہوتی ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ میرے خلاف کون سا کیس، یونیفارم میں آئیں۔
کوئی مجھے میرے بچوں اور فیملی کے سامنے سے اس طرح اٹھا کر نہیں لے جا سکتا ہے، آئین نے مجھے یہ حق دیا ہے کہ میں اپنی فیملی کی اور اپنے آپ کی حفاظت کروں۔ یہ انٹرویو انہوں نے سلیم صافی کو دیا تھا۔
صحافی نے بتایا کہ میرے بیٹے کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تاکہ میں ان سے معافی مانگ سکوں، ان کے پاؤں میں گر کر معافی مانگوں۔