“میری بیوی تو ٹھیک تھی اچھی غذا کھا رہی تھی لیکن اچانک ڈاکٹر نے آپریشن کے زریعے ڈلیوری کا کہہ دیا۔ جب وہ زچگی کے لئے گئی تو اس کی حالت ایک عام حاملہ عورت جیسی تھی لیکن خدا جانے کیا ہوا کہ بچہ نہیں بچ سکا اور بیگم کی حالت بھی کافی خراب ہوگئی“
ندیم نے اپنی بھابھی کو بتایا۔ ندیم کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس زچگی کے کمرے میں جاتے ہی ان کی بیوی پر کیا گزری کیوں کہ بچے کے انتقال کے بعد وہ صدمے میں ہے ندیم یہ بھی نہیں جانتے کہ ڈاکٹر نے ان کی بیگم کو آپریشن کے زریعے ڈلیوری کا کیوں کہا۔
پاکستان اور ترقی یافتہ ممالک میں زچگی کا عمل کتنا مختلف ہے؟
یہ کہانی صرف ندیم کی نہیں ہے بلکہ آج کل ہر دوسری حاملہ عورت کو عام طور پر آپریشن بتادیا جاتا ہے لیکن اگر باہر کے ممالک کا مشاہدہ کیا جائے تو وہاں بچے کی پیدائش کے عمل کو ہر ممکن کوشش کرکے فطری ہی رکھا جاتا ہے اور شوہر زچگی کے وقت بیوی کے ساتھ موجاد ہوتا ہے۔ آج ہم اس آرٹیکل میں بات کریں گے کہ پاکستان اور ترقی یافتہ ممالک میں زچگی کا عمل کتنا مختلف ہوتا ہے اور اس کے پیچھے کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔
جنس
ترقی یافتہ ممالک میں ہر تیسرے یا چوتھے مہینے الٹرساؤنڈ کیا جاتا ہے اور پھر ان جوڑوں کو بچوں کی جنس کے متعلق بتادیا جاتا ہے جو اس بارے میں جاننے کے خواہشمند ہوں جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں کیا جاتا جس کی وجہ ڈاکٹر حضرات یہ بتاتے ہیں کہ جنسی تعصب کی وجہ سے اکثر لوگ بیٹی کی پیدائش پر برے رویے کا اظہار کرتے ہیں اور اسپتال میں بھی شور مچاتے ہیں۔
کوئی غیر ضروری دوا نہیں دی جاتی
حاملہ خواتین کو درد ہونا ایک فطری عمل ہے جس کے بعد بچے کی ولادت ہوتی ہے لیکن اکثر دائیاں اور غیر پیشہ ور خواتین نرسز پاکستان میں زچہ کو درد ختم کرنے کی گولیاں کھلاتی رہتی ہیں جس سے ان کا کیس اکثر بگڑ جاتا ہے۔
سی سیکن کیا ہے اور پاکستان میں بڑھ کیوں رہا ہے؟
سینٹرل پارک میڈیکل کالج کی پروفیسر ڈاکٹر طیبہ مجید کا کہنا ہے کہ سی سیکشن میں حاملہ عورت کے پیٹ کو چاک کرکے بچہ باہر نکالا جاتا ہے۔ جسم کو سن کرنے کی وجہ سے خاتو کو کوئی درد نہیں ہوتا۔ پاکستان ڈیمو گرافکس اور ہیلتھ سرویز کے مطابق سنہ 2013-1990 کے دوران سی سیکشن کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ ڈاکٹر طیبہ نے ڈاکٹروں کا پیسے بنانے کا لاچ اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے نارمل ڈلیوری سے خوف کھانے والی خواتین کو بھی قرار دیا۔
زچگی کے وقت شوہر کی موجودگی
ترقی یافتہ ممالک اور پاکستانی زچگیوں کا ایک بڑا فرق یہ ہے کہ وہاں بچے کی پیدائش کے وقت شوہر بیوی کے ساتھ موجود ہوتا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں کیا جاتا۔ زچگی کے وقت اکثر خواتین موت کے منہ میں بھی چلی جاتی ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ان کی موت طبعی تھی یا کسی غیر پیشہ ورانہ رویے کا نتیجہ۔