چین میں حادثے کا شکار ہونے والے ہوائی جہاز نے نہ صرف دنیا کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ کئی لوگوں کے غموں کو بھی تازہ کر دیا ہے، جو اپنے پیاروں کو ایسے حادثات میں کھو چکے ہیں۔
اس حادثے کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاز نیچے کی جانب ایسے گر رہا تھا جیسے کہ ہار مان چکا ہو۔
ویڈیو میں جہاز کا اگلا حصہ زمین کی طرف تھا اور پچھلا حصہ جسے دُم کہا جاتا ہے وہ آسمان کی طرف تھا، یعنی جہاز زمین کی جانب تیزی سے آ رہا تھا۔
1960 میں بنائے جانے والے یہ مسافر طیارے کمرشل طور پر استعمال کیا جا رہے ہیں، جو کہ آج حادثے کا شکار ہوا ہے۔ ان ہوائی جہازوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ چھوٹے روٹس کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
چینی سول ایوی ایشن کے مطابق 123 مسافروں 9 عملے کے ارکان کو لے جانے والا مسافر طیارہ چینی کے پہاڑی علاقے میں گر کر حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ ایم یو 5735 نامی اس پرواز نے کونمینگ سے مقامی وقت ایک بج کر 11 منٹ پر اڑان بھری تھی اور اس نے تین بج کر پانچ منٹ پر گوانگزو پہنچنا تھا۔
دوسری جانب طیارے کی کمپنی چائنہ ایسٹرن ائیر لائنز کی جانب سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ کرنے والی ویب سائٹس کا کہنا ہے کہ اس طیارے نے قریب ایک گھنٹے تک پرواز جاری رکھی تھی۔ فلائٹ ریڈار 23 کی معلومات کے مطابق پرواز سے متعلق مقامی وقت دو بج کر 22 منٹ پر آخری ڈیٹا موصول ہوا اور اس وقت یہ طیارہ 3225 فٹ کی بلندی پر تھا۔