طالبان کے افغانستان میں آنے کے بعد سے کچھ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کچھ افسوس ناک بھی تھی اور کچھ حیرت انگیز بھی۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
افغان وزیر خزانہ خالد پائیندہ جنہوں نے طالبان کے آنے کے بعد اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا، اب کچھ ایسی زندگی گزا رہے ہیں کہ افسوس بھی ہے اور ماضی کی یادیں بھی۔
دراصل اشرف غنی کی کابینہ میں شامل خالد پائیندہ وزارت خزانہ میں تھے۔ لیکن اشرف غنی کے ملک سے فرار ہوتے ہی کابینہ بالکل ایسے ہوگی جیسے کہ یتیم اولاد۔
کوئی یورپ جانے کے لیے کوششیں کرتا رہا تو کوئی امریکہ۔ خالد پائیندہ بھی امریکی ریاست واشنگٹن میں آن لائن ٹیسکی اوبر چلانے پر مجبور ہیں۔
مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد پائیندہ نے بتایا کہ گھر والوں کی کفالت کے لیے مجھے ٹیکسی ڈرائیور کا کام بھی مل جانا خوشی کی بات ہے۔ ہمارے پاس رہنے کو گھر تک نہیں ہے، نہ ہم یہاں کے رہنے والے ہیں اور نہ ہی افغانستان کے۔
خالد پائیندہ اس حد تک اپنی نوکری سے مخلص ہیں کہ اگر میں اگلے دو روز میں50 رائڈز پوری کر لیتا ہوں تو مجھے 95 ڈالرز بونس مل سکتا ہے۔