ڈلیوری کے بعد عورت کس بیماری کا شکار ہوکر اپنے ہی بچے کی دشمن بن سکتی ہے اور اس بیماری پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے؟

image

پوسٹ پارٹم ڈپریشن دراصل ہے کیا؟ اس کی کیا علامات ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں ؟ ہمارے ہاں اس کے بارے میں کوئی آگاہی کیوں نہیں ہے؟ زچگی کے بعد ہونے والا یہ ڈپریشن ہر ماں کو نہیں ہوتا ،یا اگر ہوتا بھی ہے تو اس کی شدت مختلف ہوتی ہیں ،کچھ میں بہت شدید ہوتا ہے اور کچھ میں کم ہوتا ہے ۔ ایسے میں گھر والوں ،شوہر اور سسرال والوں کے تعاون سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پوسٹ پارٹم ڈپریشن خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس صورتحال میں خاتون اپنے ساتھ ساتھ اپنے بچے کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

وہ وجوہات جو اس بیماری کا سبب بنتی ہیں

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہات میں بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کے جسم میں ہونے والی تبدیلیاں تو شامل ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ سماجی وجوہات بھی اس کا مؤجب بن سکتی ہیں جیسا کہ اگر بچپن میں بچیوں کو اہمیت نہ دی جائے یا دوران حمل شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے ان کا خیال نہ رکھا جائے اور شوہر سے وابستہ توقعات پوری نہ ہوں تو ایسی عورتوں کے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن کیا ہے؟

ماہر نفسیات کے مطابق ’پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں مبتلا خواتین میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ انھیں اپنے نومولود سے کوئی انسیت محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے جس وجہ سے وہ خود کو قصوروار سمجھتی ہیں۔ یہ صورتحال ایسی ہے جیسے کوئی احساس جرم انسان کو بے چین رکھتا ہے۔‘یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی ماؤں میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی شرح 28 فیصد سے زیادہ ہے۔

عورت کی ذہنی کیفیت اور معاشرہ

ہمارے ہاں عموماً خواتین بچے کی پیدائش کے بعد تمام معمولات کی تبدیلیوں کو اکیلے ہی برداشت کرتی ہیں جس کی وجہ سے اکثر نئی ماؤں میں چڑچڑا پن،غصہ اور جھنجھلاہٹ بڑھ جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اگر جوائنٹ فیمل کے ساتھ رہ رہی ہیں تو وہاں بھی یہ طعنے دئیے جاتے ہیں کہ تم نے کوئی انوکھا کام نہیں کیا سب عورتیں اس سے گزرتی ہیں یہ سب سن کر عورت کو گصہ اور تکلیف اور ذہنی اذیت کا جو احساس اندر ہی اندر بڑھتا ہے وہ ڈپریشن کی صورت میں کبھی شدت سے نکلتا ہے اور کبھی صرف چڑچڑے پن میں ظاہر ہوتا ہے۔

بیماری کا علاج

حال ہی میں ہونے والا کراچی کا واقعہ جس میں ایک ماں نے اسی ذہنی کیفیت میں اپنی بچی کو قتل کر دیا، وجوہات جو سامنے ائیں اس میں شوہر کی طرف سے تشدد، سسرال کی طرف سے ذہنی دباؤ، نیند پوری نہ ہونا، بچے کی وجہ سے راتوں کو جاگنا اور شادی میں ناپسندیدگی شامل ہے۔ ان سب چیزوں نے مل کر اس خاتون کو اس کیفیت میں مبتلا کر دیا جس کے دباؤ میں اس نے اپنی 22 دن کی بچی کی جان لے لی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کل کے مشکل اور مصروف دور میں جب کہ لوگوں کی مشکلات میں مختلف وجوہات کی بناء پر اضافہ ہو چکا ہے، اس مسئلے اور مرض کو سمجھا جائے اور اس کے حل پر توجہ دی جائے، اس کا باقاعدہ علاج کروایا جائے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US