پیر کے روز چائنہ ایسٹرن ائیر لائنز کے مسافر جہاز کو جو حادثہ پیش آیا اس کے بعد آج تیسرے روز بھی جائے حادثہ پر انسانی جانوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔ کوئی اپنے پیارے کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو کوئی اس امید میں لگا کہ شاید اس کا پیارا کسی کرشمے میں باہر آجائے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
چین کے پہاڑی علاقے گوانگشی میں پیر کے روز مسافر طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا جس کے بعد جائے حادثہ پر آگ کے شعلے اس حد تک بلند تھے کہ ناسا کی سیٹلائٹ امیجز بھی چیخ چیخ کر یہ تبا رہی تھیں کہ جہاز میں کچھ بھی بچنے کا امکان بہت کم ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق ہوائی جہاز اس شدت سے پہاڑ سے ٹکرایا کہ پہاڑ میں ایک گہرا گڑھا بن گیا ہے، اس گڑھے میں عین ممکن ہے آگ کے شعلے بھڑکنے کی وجہ سے مسافر بھی اس کی زد میں آئے ہوں۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ تحقیقات جاری ہیں اور بوئنگ 737 – 800 کے تمام ہوائی جہاز گراؤنڈ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حادثے کے مقام سے بلیک باکس کی تلاش جاری ہے، جس کے لیے ڈرونز اور انسانی کاروائیوں کا استعمال کیا جائے گا۔ بلیک باکس تحقیقات میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
چائنہ ایسٹرن ائیر لائنز کی فلائٹ 5735 تقریبا 29 ہزار فٹ کی بلندی پر 455 ناٹ یعنی 523 میل فی گھنٹہ، 842 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی تھی۔ مقامی وقت کے مطابق طیارہ 2 بجکر 20 منٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوا۔
رپورٹ کے مطابق مسافر طیارہ 7 ہزار 400 فٹ تک گر گیا ، لیکن اچانک 12 سو فٹ تک واپس اوپر چلا گیا۔ اوپر نیچے ہوتا ہچکولے کھاتا یہ مسافر طیارہ اچانک نیچے آنا شروع ہوا ، 96 سیکنڈز بعد اس نے ڈیٹا منتقل کرنا بند کر دیا تھا۔
اپنی منزل سے محض چند لمحے دور یہ جہاز پہلے ہی ایک پہاڑ سے ٹکرا گیا، مسافروں کا حال اس حد تک خراب ہو سکتا ہے کہ شاید حادثے سے پہلے ہی حالات خراب ہوں۔ طیارہ جس طرح گرا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کیا صورتحال ہوگی۔