بھارت میں چلنے والی اسلام دشمنی کی لہر اگرچہ بڑھتی ہی جارہی ہے لیکن پھر بھی وہاں کے مسلمانوں نے دوستی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کی کوشش نہیں چھوڑی۔ ایسے ہی ایک مسلمان تاجر ہیں اشتیاق احمد خان جنھوں نے دنیا کا سب سے بڑا اور اونچا مندر تعمیر کرنے کے لئے ڈھائی کروڑ کی زمین عطیہ کی ہے۔
مسلمان مدد نہ کرتے تو کبھی مندر نہیں بن پاتا
اشتیاق احد خان کا تعلق بھارت کی ریاست بہار سے ہے اور انھوں نے کیتھوالیہ کے علاقے میں دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر کے لئے زمین عطیہ کی ہے۔ مندر کے ٹرسٹ کے سربراہ اچاریہ کشور کنال نے اشتیاق احمد اور علاقے کے مسلمانوں کے جذبہ خیر سگالی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ “اشتیاق احمد کا خاندان سماجی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ اگر مندر کے منصوبے میں علاقے کے مسلمان مدد نہیں کرتے تو یہ منصوبہ کبھی مکمل نہیں ہوتا“
علاقے کے ہندوؤں کی مدد کرنا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں
مندر کے لئے زمین عطیہ کرنے والے مسلمان شخص کا کہنا ہے کہ “ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ہمارا خاندان اپنی جائیداد میں سے اکثر زمینیں علاقے کے ہندوؤں کے لئے دیتا رہا ہے کیونکہ ہمارے پاس اگر کچھ ہے تو اس میں سے لوگوں کی مدد کرنا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں“
ہم کچھ بھی کر لیں بھارت میں مسلمانوں کے لئے نفرت کم نہیں ہوسکتی
سوشل میڈیا پر ایک مسلمان کی جانب سے کیے جانے والے اتنے بڑے عمل پر جہاں لوگ انھیں سراہ رہے ہیں وہیں بھارتی مسلمانوں کا یہ بھی شکوہ ہے کہ انھیں اپنے ملک سے محبت کے بدلے بھی اپنا نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ہم کچھ بھی کرلیں لیکن بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جو نفرت کی فضا قائم ہے وہ کم نہیں ہوسکتی۔