کسی کی نند جھوٹ بول کر ہمیشہ گھر میں آگ لگائے اور کسی کی نند ہمیشہ ساتھ نبھائے۔۔نند بھاوج کا کھٹا میٹھا رشتہ ،اتنا مشہور کیوں؟

image

ایک لڑکی جب شادی ہو کر دوسرے گھر آتی ہے تو اپنے سب رشتوں کو پیچھے چھوڑ کر نئے رشتوں کو اپنانے آتی ہے۔ ایسے میں اگر اسے اپنے سسرال سے پیار محبت اور خلوص ملے تو وہ بھی ان سب کے ساتھ گھل مل کر رچ بس جاتی ہے۔ دوسری طرف نند ہوتی ہے جو بڑے ارمانوں سے اپنی بھابھی کو اپنے گھر اپنی سہیلی سمجھ کر لے کر آتی ہے۔ لیکن کچھ ہی دن گزرتے ہیں کہ آپس میں رنجشیں اور شکایتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ ایسا کیا ہوتا ہے کہ یہ پیار اور محبت حسد اور جلن میں بدل جاتا ہے۔

رشتوں میں توازن کا تناسب

ہمارے ہاں عموماً جب لڑکی شادی ہو کر آتی ہے تو وہ یہ چاہتی ہے کہ اس کے شوہر پر صرف اس کا ہی حق رہے۔ وہ اپنی ماں اور بہنوں کو کوئی توجہ نہ دے نہ ان کو اہمیت دے ۔ یا نندوں کی طرف سے مسائل جب شروع ہوتے ہیں جب وہ یہ چاہتی ہیں کہ ہمارا بھائی صرف ہمارا ہی رہے کسی اور طرف توجہ نہ دے ۔وہ نئے شادی شدہ جوڑے کا ساتھ گھومنا پھرنا، ہنسنا کھیلنا برداشت نہیں کر پاتیں۔ اور پھر لگائی بجھائی ،شکوے شکایات دونوں طرف سے شروع ہوجاتے ہیں۔ یہیں اس رشتے میں دراڑ آنے لگتی ہے۔ جبکہ اگر دیکھا جائے تو دونوں رشتے اپنی اپنی جگہ اہم ہیں اور ان دونوں کی آپس کی رنجش نہ صرف گھر کا ماحول خراب کرتی ہے بلکہ لڑکے جوکہ ایک کا شوہر اور ایک کا بھائی ہے اس کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کرتی ہیں۔

بہنوں جیسی سہیلی

نند اور بھابھی کا تعلق بہت خوبصورت ہے اگر اس کو اچھی طرح نبھایا جائے تو نند کو اپنی ایک سہیلی مل جاتی ہے جو اس کی رازدار بھی بن سکتی ہے اور اس کی بہن بھی ، جبکہ بھاوج کو بھی چھوٹی یا بڑی بہن مل جاتی ہے جس سے وہ اپنے دکھ سکھ کہہ سکتی ہے۔ان سب کی وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم ان رشتوں کے لئے ،اس تعلق کے لئے اپنے دلوں میں گنجائش نہیں نکال پاتے۔ ایسا نہیں کہ ہر جگہ ایسی ہی صورتحال ہے۔ بعض گھروں میں واقعی آئیڈیل سچویشن ہوتی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے بڑے ان رشتوں میں دراڑ نہیں آنے دیتے۔ وہاں بھائی یا شوہر اپنے رشتوں میں توازن رکھنا جانتا ہے۔ وہ ہر رشتے کو پوری دیانتداری سے نبھاتا ہے جس کی وجہ سے شکایتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ جس جگہ مرد کانوں کے کچے یا کمزور شخصیت کے مالک ہوتے ہیں ،وہاں یہ مسائل زیادہ سر اٹھاتے ہیں۔ کئی جگہ نندیں اپنی بھابھیوں کا جینا دوبھر کر دیتی ہیں اور کئی جگہ بھابھیاں اپنی ساس نندوں کی زندگی حرام کر دیتی ہیں۔

شادی شدہ نندیں کیا فساد کی وجہ بنتی ہیں؟

اس رشتے میں بڑی خوبصورتی اور گنجائش ہے اگر ہر ایک اپنے مقام اور مرتبے کو پہچان لے تو کسی کو کسی سے شکایت پیدا نہ ہو۔ اگر نندیں شادی شدہ ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ گھر میں آکر اپنی ماں یا بھائی کے کان نہ بھریں یا بھاوج کے ہر کام میں مین میخ نہ نکالیں ،اس سے بھابھی کے دل میں اپنی نندوں کے لئے برائی پیدا ہو تی ہے ،جبکہ بھابھیوں کو بھی چاہیے کہ اپنی بیاہی نندوں کے آنے پر منہ نہ بنائیں بلکہ کھلے دل سے ان کا استقبال کریں تاکہ ان کا دل بھی خوش ہو جائے ۔اگر ان رشتوں کی مٹھاس کو محسوس کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ گھر اور دل دونوں کا موسم خوشگوار ہوجائے ۔ تو ابتداء آج سے ہی کردیں اگر آپ کسی کی نند ہیں تو آج ہی اپنی بھابھی کو گلے لگالیں اور اگر کسی کی بھابھی ہیں تو اپنی نند کو چھوٹی یا بڑی بہن سمجھ کر چھوٹی موٹی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US