سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کا حکومت پر بڑھتا مالی انحصار قومی خزانے کیلیے شدید خطرات پیدا کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سود سمیت سرکاری اداروں کے مجموعی قرضے ساڑھے 9 کھرب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاور سیکٹر کا قرض 2.4 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ گردشی قرضہ 4.9 ٹریلین روپے کی خطرناک سطح پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کو کریڈٹ، مارکیٹ اور آپریشنل خطرات کا سامنا ہے۔ ناقص گورننس اور سیاسی مداخلت کے باعث ان اداروں کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ سبسڈیز کی بروقت ادائیگی نہ ہونے سے اداروں کی مالی حالت مزید بگڑ رہی ہے۔ رپورٹ میں کریڈٹ رسک مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی ری اسٹرکچرنگ پر بھی زور دیا گیا ہے۔