دنیا میں ایسی کئی شخصیات ہیں جو کہ اس دنیا سے چلی گئیں مگر اپنی جان دے کر دوسروں کو بچا گئیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو پرنسپل طاہرہ قازی کے بارے میں بتائیں گے۔
کہتے ہیں کہ استانی اور پرنسپل طالب علموں کی والدہ ہی ہوتی ہے، اس بات کا عملی ثبوت آرمی پبلک اسکول کی پرنسپل طاہرہ قازی نے کر دکھایا۔ جب 16 دسمبر 2014 میں اے پی ایس اسکول پر ملک دشمن قوتوں کی جانب سے حملہ کیا گیا جس میں ڈیڑھ سو کے قریب طالب علم اور اسکول عملہ شہید ہو گیا۔
لیکن ان سب میں طاہرہ قازی وہ خاتون تھیں جنہیں اسکول سے باہر نکال دیا گیا تھا مگر ایک ماں ہو کر دوسری ماؤں کا غم پہچان سکتی تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ خطرے میں گھرے بچوں کو باہر نکالنے کے لیے واپس اندر چلی گئیں۔
طاہرہ قاضی کی بہن شاہدہ قاضی بتاتی ہیں کہ ان کی بہن کو دو مرتبہ اسکول سے باہر نکالا جا چکا تھا مگر ان کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ جب تک میرا آخری بچہ اسکول سے باہر نہیں آ جاتا میں، باہر نہیں آؤں گی۔
ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق طاہرہ قاضی کے بیٹے عمران کو پیدائش کے وقت سانس میں لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی جس کے باعث بیٹے کے دماغ کو نقصان پہنچا۔ مگر والدہ نے بیٹے کے ساتھ ساتھ اپنے استاد ہونے کے فرض کو بھی نہیں چھوڑا۔
مامتا کی ایک ایسی مثال جس نے سب کو افسردہ کر دیا، شاہدہ قاضی بتاتی ہیں کہ ہمیں جیسے ہی معلوم ہوا تو میں اور دیگر بہنیں امریکہ سے پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے۔
طاہرہ قاضی کے گھر والے بتاتے ہیں کہ وہ ایک ایسی خاتون تھیں جو کہ پریکٹیکل زندگی پر یقین رکھتی تھیں، چونکہ ان کے شوہر بھی آرمی میں تھے تو وہ چاہتی تو گھر بیٹھ کر آرام دہ زندگی گزر بسر کر سکتی تھیں۔ مگر انہوں نے ایک باہمت خاتون اور بہترین والدہ ہونے کا ثبوت دیا۔
طاہرہ قاضی کے بچے بتاتے ہیں کہ ان کی والدہ میں بےحد صبر تھا، جس کی کوئی حد نہیں تھی۔ بیٹے نے بتایا کہ والدہ نے 20 سال اے پی ایس میں ٹیچنگ دی، اس اسکول میں بھی انہوں نے بطور انگریزی کی استانی شروعات کی تھی، پھر ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پھر بعدازاں وائس پرنسپل کے عہدے تک پہنچ گئیں۔
طاہرہ قاضی کے بیٹے احمد کی جانب سے بتانا تھا کہ والد دیگر بچوں کو اسکول سے باہر نکال رہی تھیں، کہ تب ہی کچھ دہشت گردوں کا سامنا ان سے ہوا۔ والدہ نے درندوں کو یہ تک کہا تمہیں جو کچھ چاہیے لے جاؤ مگر بچوں کو چھوڑ دو۔ لیکن ظالم درندوں کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ بچوں کو ہمارے حوالے کر دو، لیکن ایک ماں نے اپنی جان گنوادی لیکن بچوں کو بچانے کی پوری کوشش کی۔
اگرچہ وہ چلی گئیں مگر انہوں نے کئی بچوں کو اس درندوں سے بچایا، آج کئی سال بعد بھی طاہرہ کاظمی شہید زندہ ہیں، لیکن ان دہشت گردوں کو کوئی یاد کرنا تو دور سوچتا بھی نہیں ہے کہ کون تھے۔