سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر دیکھی ہوں گی جس میں دلچسپ اور منفرد معلومات موجود ہوتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
چاند میں دراڑ:
مسلمانوں کا ایمان ہے کہ آقائے دو جہاں ﷺ نے چاند کو دو حصوں میں کیا تھا، یہ معجزہ بھی ان لوگوں کو انہی کے مطالبے پر دکھایا گیا تھا جو کہتے تھے کہ اگر سچے رسول ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔
اس واقعے کا ذکر قرآن مجید کی سورہ القمر میں بھی موجود ہے، لیکن سائنس اس بارے میں الگ رائے رکھتی ہے۔
سائنٹیفک اینڈ اکیڈمک پبلشنگ کی جانب سے ایک ریسرچ اپلوڈ کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا سائنس دانوں کا بھی ماننا ہے کہ چاند میں دراڑ موجود ہے۔ اس ریسرچ میں بتایا گیا کہ بنیادی طور پر یہ بیانیہ اسلام سے حاصل ہوا ہے۔ ریسرچ کے مطابق چاند میں دراڑ اور گڑھے چاند کے دو حصے ہونے کے بعد رونما ہوئے ہیں، یعنی یہ دراڑیں پرانی نہیں ہیں، کم از کم چاند کی عمر سے تو کم ہی ہیں۔
ناسا اس حوالے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے، اسے چاند کے سکڑنے سے تشبیہہ دیا جا رہا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اندرونی طور پر چاند ٹھنڈا ہے جس کی وجہ سے وہ سکڑ رہا ہے۔ اب تک 150 میٹر تک چاند سکڑ چکا ہے، اور یہ سلسلہ گزشتہ سو ملین سال سے جاری ہے۔
کعبے کی طرف رکوع کرتا درخت:
آسٹریلوی شہر سڈنی کے جنگلات میں ایک ایسا درخت موجود ہے جو کہ کعبے کی ڈائریکشن میں سجدہ کر رہا ہے۔ اس تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ درخت کا نچلا حصہ سیدھا ہے البتہ اوپری حصہ کچھ اس طرح بنا ہوا ہے گویا کوئی انسان نماز میں رکوع کر رہا ہو۔
یہ درخت بھی سوشل میڈیا پر اپنے منفرد انداز کی وجہ سے مشہور ہو گیا ہے۔
سجدہ کرتا پتھر؟
سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر بھی وائرل ہے جس میں امریکی ریاست اوریگن کے ساحل علاقے پر واقع ایک دیوہیکل پتھر کو دیکھا جا سکتا ہے۔
اس پتھر کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پتھر سجدہ کر رہا ہے۔
سجدے سے کچھ حد تک ممثلت رکھنے والے اس پتھر کی بناوٹ بھی کچھ ایسی ہے کہ دور سے دیکھنے پر ایسا ہی کچھ معلوم ہوتا ہے۔
مگر چونکہ سمندری لہریں اس پتھر سے ٹکراتی ہیں تو یہی وجہ ہے کہ اس پتھر کے بیچ میں بھی جگہ بن گئی اور آس پاس بھی لہروں سے ایک شیپ بنا دی ہے۔
پتے پر اللہ کا نام:
ایک ایسی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں گھروں میں رکھے جانے والے پودے کے پتے پر اللہ کا نام موجود تھا۔
ہرے رنگ کے بڑے پتے پر موجود اس نام کو دیکھ کر کوئی بھی یقین کر لے گا مگر جان رکھیے کہ یہ سوشل میڈیا پر کی دنیا ہے اور یہاں ہر قسم کا مواد موجود ہوتا ہے۔
اگرچہ اس حوالے سے اب تک کسی ذرائع سے خبر سامنے نہیں آئی ہے، اس تصویر میں یا اللہ لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔