اس کے اندر انسان کو ڈال دیا جاتا تھا او رپھر ۔۔ یونان میں پہلے مجرموں کو سزا دینے کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جاتا تھا اور کانسی کا بھینسا کیا کرتا تھا؟

image

تاریخ کا مطالعہ کرنے والے شوقین افراد کوعموماً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں یورپ میں انتہائی ظالمانہ سزائیں دی جاتی تھیں۔ ایسے معاشرے میں جہاں سخت اور اذیت ناک سزائیں دینے کا رواج ہو،وہاں کی عوام کا مزاج بھی ویسا ہی بن جاتا ہے۔ اور وہ بھی ان چیزوں کو دیکھنے کے عادی ہوجاتے ہیں جو کہ اگر کوئی نیا شخص دیکھے تو لرز جائے۔ یونانیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت ظلم کیا کرتے تھے اور ایسی ایسی سزائیں ایجاد کیا کرتے تھے کہ آج کل کے مغربی انسانی حقوق کے چیمپئنزجو پھانسی کو ظالمانہ اور غیرانسانی فعل کہتے ہیں، وہ ان سزاؤں کے بارے میں بات نہیں کرتے، جن کے ذریعے مجرموں کو ایسی سزائیں دی جاتی تھی کہ روح لرز جائے۔ یوں تو بہت سی ایسی سزائیں تھیں کہ جو انسانیت سے گری ہوئی تھیں لیکن ان میں ہی ایک سزا پیتل یا کانسی کے بھینسے میں بند کرکے موت کی سزا دی جاتی تھی۔

کانسی یا پیتل کا بھینسا

قدیم یونانیوں کے تیار کردہ اس طریقے سزا کو صقلیہ کا بھینسا بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہ بحیرہ روم کے جزیرے صقلیہ یا سسلی میں ایجاد ہوا تھا۔ کانسی کے بنے ہوئے اس بھینسے یا بیل کا حجم اور شکل صورت بالکل اصلی بھینسے یا بیل کی طرح ہوتی تھی۔ سزایافتہ مجرم یا فرد کواس کانسی کے بیل یا بھینسے کے اندر بند کردیا جاتا تھا اور پھر اس کے نیچے آگ جلا دی جاتی تھی۔ مجرم اندر کی گرمائش سے جل کر تڑپ تڑپ کرمر جاتا تھا۔ کچھ ماہرین سزا نے ایسے بھینسے بھی تیار کیے تھے جو مرنے والے کی چیخوں کی آواز کو بھینسے کے ڈکرانے کی آواز میں بدل دیتے تھے۔ اور چیخنے والے کی آواز کے بدلے ایسا لگتا تھا کہ یہ بھینسا ہی چلا رہا ہے۔ اس میں اس زمانے میں بھی غالباً ایکو یا گونج کی تکنیک رکھی گئی ہوگی ،جس کی بدولت چیخیں جب گونجتی ہوں گی تو اس کو ڈکرانے کی آواز میں بدل دیتی ہوں گی۔اس وقت کے ماہرین فن یقیناً اپنے فن کے عروج پر تھے مگر افسوس ان کی یہ مہارت انسانیت کے اذیت اور اس کے قتلِ عام میں استعمال کی جاتی تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US