فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس معاملات اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر ملک بھر کے جوئیلرز اور صرافہ تاجروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے، جس کے تحت ایک طرف مذاکرات کا عمل چل رہا ہے تو دوسری طرف بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کے نوٹسز بھی جاری کردیے گئے ہیں۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز میں جوئیلرز کو 'ڈیزگنیٹڈ نان فائنانشل بزنسز اینڈ پروفیشنلز' (DNFBPs) قرار دیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اس زمرے میں رجسٹر ہوں۔ اینٹی منی لانڈرنگ (AML) کی متفرق شقوں کے تحت اور کمپلائنس کو یقینی بنانے کے لیے جاری ان نوٹسز میں سناروں کو ایف بی آر کو تمام ریکارڈ فراہم کرنے اور آن سائٹ معائنے کے لیے مکمل رسائی دینے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاسم شکار پوری نے تصدیق کی ہے کہ یہ نوٹسز ملک بھر کے جوئیلرز کو جاری ہوئے ہیں جن میں انہیں ڈی این ایف بی پی میں رجسٹر ہونے کا کہا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک طرف ایف بی آر اور جوئیلر نمائندوں کے مابین ٹیکس معاملات اور چھاپوں پر مذاکرات چل رہے ہیں، جبکہ صرافہ ایسوسی ایشن اس سنگین معاملے پر چیئرمین ایف بی آر سے فوری رابطے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ان سے بات چیت میں یہ ایشو مؤثر طریقے سے اٹھایا جاسکے۔